.

دہشت گردی کے الزام میں اخوان المسلمون کے 18 ارکان گرفتار

کالعدم جماعت کے حق میں پمفلٹ تقسیم کرنے اور دہشت گردی کی شہ دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے ایک سابق رکن پارلیمان سمیت اٹھارہ ارکان کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے.

ان میں سے سات افراد کو ملک کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ اور گیارہ کو نیل ڈیلٹا کے شہر زقازق سے گرفتار کیا گیا ہے۔ مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) کی اطلاع کے مطابق ان میں سابق صدر محمد مرسی کی جماعت کے نائب سربراہ کا بیٹا بھی شامل ہے۔

مصر کی اس سرکاری خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اخوان المسلمون کے سولہ ارکان کو اپنی جماعت کے حق میں پمفلٹ تقسیم کرنے اور تشدد کی شہ دینے کے الزام میں پکڑا ہے۔

مسلح افواج کی نگرانی میں قائم مصر میں عبوری حکومت نے بدھ کو باضابطہ طور پر ملک کی سب سے قدیم مذہبی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردے دیا تھا اور اس کے زیر اہتمام ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور دوسری سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی۔

اعلیٰ تعلیم کے وزیر حسام عیسیٰ نے نیوز کانفرنس میں کابینہ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ اخوان کے زیراہتمام احتجاجی مظاہروں ،ریلیوں اور دوسری سرگرمیوں کو غیر قانونی قراردے کر ان پر پابندی عاید کردی گئی ہے اور اس کی ذیلی تنظیموں یا اس کے ساتھ وابستہ گروپوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہوگی۔

حسام عیسیٰ نے مزید بتایا:''حکومتی اعلامیے کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی بھی اس گروپ کی سرگرمیوں میں حصہ لے گا،زبانی یا تحریری طور پر ان کو فروغ دے گا یا کسی بھی اور طریقے سے ایسا کرے گا یا اس کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل مہیا کرے گا،وہ قانون کے مطابق مستوجب سزا ہوگا''۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرے عرب ممالک کو بھی حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

مصر کے ایک اور وزیر احمد البرعی نے قاہرہ میں نیوزکانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ''اس فیصلے کے تحت مظاہروں سمیت اخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں پر پابندی ہے۔البتہ جو لوگ اخوان کوخیرباد کہہ دیں گے اور اس کی رکنیت چھوڑ دیں گے،انھیں معاف کردیا جائے گا''۔

ان وزیر صاحب کے بہ قول اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے جاری کردہ حکم نامے کے تحت مسلح افواج اور پولیس کو طلبہ کے تحفظ کے نام پر جامعات میں داخل ہونے اور وہاں مظاہروں کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ اس کو بلیک لسٹ قراردینے کے فیصلے سے اس کی تنظیمی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ احتجاجی مظاہرے جاری رکھے گی۔لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے اخوان المسلمون کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن ابراہیم منیر نے اپنی جماعت کو دہشت گرد قرار دینے کے حکومتی فیصلے کو غیر قانونی قراردیا ہے۔

اخوان المسلمون کے سیاسی بازو حریت اور عدل پارٹی کے ایک رکن ابراہیم السیّد نے بھی کہا ہے کہ حکومتی اعلان سے ان کی جماعت کے کام یا عقیدے پر کچھ فرق پڑنے کا نہیں کیونکہ اس کو ماضی میں بھی اسی طرح حکومت کے جبر وتشدد کا سامنا رہا ہے اور وہ اسلام کے اعتدال پسندانہ نقطہ نظر کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھتی چلی آرہی ہے۔

انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پیِ) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے لیے حکومت کا یہ فیصلہ ایسے ہی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔اس کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں اور اس کی ایک کاغذ جتنی اہمیت ہے جس پر یہ لکھا گیا ہے۔ہمارے نظریات غلط الزامات سے متاثر نہیں ہوں گے''۔

مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو بلیک لسٹ کرنے سے ایک روز قبل اس سے وابستہ ایک ہزار سے زیادہ تنظیموں کے فنڈز منجمد کردیے تھے اور اس کے زیر اہتمام ایک سو سے زیادہ اسکولوں کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر اخوان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کرسکی تو اس کے فیصلے کو عدالتیں کالعدم قراردے سکتی ہیں۔

مصر کے عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی اور ان کی کابینہ نے منصورہ شہر میں ایک سکیورٹی عمارت پر خودکش بم حملے کے بعد اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپ قراردیا ہے۔اس واقعے میں سولہ افراد ہلاک اور ایک سو تیس زخمی ہوگئے تھے۔ اخوان المسلمون اور فوجی انقلاب مخالف اتحاد نے اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور سابق صدر حسنی مبارک کے بدنام زمانہ سکیورٹی رجیم پر اس کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ایک مرتبہ پھر حسنی مبارک دور کے سکیورٹی عہدے دار فعال ہوچکے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے اسلام پسندوں پر ان کا الزام عاید کرسکیں۔