.

عراق میں ایران مخالف گروپ کے کیمپ پر راکٹ حملے کی مذمت

عراقی حکومت واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے:ایلچی اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے نواح میں ایران کے حکومت مخالف جلاوطن گروپ پر راکٹ حملے کی مذمت کی ہے اور عراقی حکومت سے کیمپ کے تحفظ اور واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کی رات ایرانی حکومت کے مخالف مجاہدین خلق کے کیمپ لبرٹی پر متعدد راکٹ آکر گرے تھے۔ پیرس میں قائم ایرانی حکومت مخالف قومی مزاحمتی کونسل کا کہنا ہے کہ اس راکٹ حملے میں تین افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں لیکن عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں صرف دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عراق میں اقوام متحدہ کے ایلچی نیکولے ملدینوف نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کیمپ پر راکٹوں کی بارش سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں لیکن انھوں نے ہلاکتوں کی متعین تعداد کا ذکر نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ کیمپ کے مکینوں کو تحفظ مہیا کرنا عراقی حکومت کی ذمے داری ہے۔ اس تازہ واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے اور اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ماضی میں ایران کی حمایت یافتہ عراق کی ایک شیعہ ملیشیا کے لیڈرنے مجاہدین خلق کے کیمپ پر راکٹ حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور ان کے وہاں سے انخلاء تک مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ مجاہدین خلق کے مطابق اس سال اب تک کیمپ پر راکٹ حملوں میں دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مجاہدین خلق اور پیرس میں قائم ایرانی مزاحمتی کونسل ایران میں علماء کی حکومت کے مخالف ہیں۔ مجاہدین خلق نے 88-1980ء کے دوران لڑی گئی ایران،عراق جنگ میں صدام حسین کی فوج کا ساتھ دیا تھا۔اس کے بدلے میں عراق کے مقتول صدر نے مجاہدین خلق کے ہزاروں جنگجوؤں کو اپنے ملک میں پناہ دی تھی۔

مجاہدین خلق اسّی کے عشرے اور اس سے قبل ایران میں بم دھماکوں اور اپنے مخالفین کی ہلاکتوں میں بھی ملوث رہے تھے جس پر امریکا نے اس تنظیم کو دہشت گرد قراردے دیا تھا لیکن 2001ء میں اس تنظیم نے تشدد کی مذمت کردی تھی جس پر گذشتہ سال امریکا نے اس کانام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے حذف کردیا تھا۔

عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت مجاہدین خلق کی ملک میں موجودگی کو غیر قانونی قراردیتی ہے اور وہ ان سے گلوخلاصی چاہتی ہے۔ بغداد کے نواح میں مجاہدین خلق کا مہاجر کیمپ امریکی فوج کے ایک سابق اڈے میں قائم ہے اور وہاں قریباً تین ہزار ایک سو ایرانی رہ رہے ہیں۔اب اقوام متحدہ انھیں یہاں سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کے لیے میزبان ملک کی تلاش میں ہے۔ ان کی ایران واپسی کا امکان نہیں کیونکہ اپنے ملک میں واپسی کی صورت میں انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور ان کے لیے دوسرے خطرات بھی ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ مجاہدین خلق کو کسی اور ملک میں آباد کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے کیونکہ ان کے بہ قول اسی صورت میں ان کے تحفظ اور سکیورٹی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ اب تک مجاہدین خلق کے 162 ارکان کو بیرون ملک بسایا جاچکا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کو البانیا میں منتقل کیا گیا ہے۔