.

لبنان دھماکہ، سابق مشیر سمیت آٹھ ہلاک، متعدد زخمی

دھماکہ اہم حکومتی مراکز کے قریب ہوا، وزیر اعظم کیطرف سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جمعہ کے ایک زور دار کار بم دھماکہ ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک سابق مشیر محمد شطہ جن کا عہدہ وزیر کے برابر رہا ہے اس دھماکے میں دیگر سات افراد سمیت جاں بحق ہو گئے ہیں۔ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکہ حکومت کے ہیڈ کوارٹر اور پارلیمنٹ سے محض چند سو گز کے فاصلے پر ہوا ہے۔ جو بیروت کا انتہائی سکیورٹی زون ہے۔

دارالحکومت کے مرکزی حصے میں دھماکے کے بعد آسمان پر دور تک سیاہ دھواں دیر تک بلند ہوتا نطر آتا رہا ہے۔ دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کی طرف رش کیا، جبکہ ایمبولینس گاڑیوں کے ہوٹر بھی بجنے لگے اور ایمبولیسیں جائے دھماکہ کی جانب دوڑنے لگیں۔

مقامی ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد اہم شخصیات کے دفاتر اور رہائش گاہوں کی حفاظت کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دھماکے کے نتیجے میں کم از کم دو جگہوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے نظر آ رہے ہیں، ان شعلوں کا مرکز ایک وہ گاڑی بھی ہے جسے امکانی طور پر دھماکے کیلیے استعمال کیا گیا ہے۔ ابھی دھماکے کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

دھماکے میں جاں بحق ہونے والے محمد شطہ سابق وزیر اعظم سعد الحریری کے اتحادی رہ چکے ہیں۔ ان کا سنی مسلک سے تعلق تھا اور ایک متحرک رہنما تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد شطہ ایک اجلاس میں شرکت کیلیے جا رہے تھے کہ دھماکہ ہوا اور وہ لقمہ اجل بن گئے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ لبنان میں مالیات کے مشیر رہ چکے ہیں۔

فوری طور پر اس دھماکے کی کسی نے ذمہ داری قبول کی ہے نہ حکومت کی طرف سے کوئِی موقف سامنے آیا ہے۔ پچھلے ماہ نومبر اسی نوعیت کا ایک دھماکہ ایرانی سفارت خانہ کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا تھا۔ جس میں ایرانی ثقافتی اتاشی مارا گیا تھا۔

وزیراعظم لبنان نے بم دھمکے میں سابق مشیر محمد شطہ کو ہلاک کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے لوگوں سے متحد رہنے کی اپیل کی ہے۔