.

یمنی فوج کی سوگواروں کے خیمے پرگولہ باری،14 افراد ہلاک

گولہ باری سے زخمی افراد کو اسپتال منتقل کرنے کے دوران بھی فوجیوں کی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی فوج نے ایک اسکول میں جنوبی تحریک کی جانب سے سوگواروں کے لیے لگائے گئے خیمے پر گولہ باری کردی ہے جس کے نتیجے میں تین بچوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمنی فوج نے جنوبی صوبہ دلح کے قصبے سنح میں ایک اسکول میں اظہار تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے لگائے خیمے پر ٹینک سے گولہ باری کی ہے اور اس سے بیس افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انھیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ یہ قصبہ دارالحکومت صنعا سے تین سو کلومیٹر دور واقع ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرتے وقت بھی فائرنگ کی ہے اور بعض زخمی فوج کی فائرنگ کی وجہ سے خیمے سے نہیں اٹھائے جا سکے تھے۔

جنوبی یمن کی خودمختاری یا اس کی ایک مرتبہ پھر آزادی کے لیے حکومت مخالف تحریک نے گذشتہ سوموار کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کا اظہار افسوس کرنے کے لیے آنے والوں کے لیے اسکول میں یہ خیمہ لگا رکھا تھا۔

صوبہ دلح میں علاحدگی پسندوں کی جانب سے سرکاری عمارتوں پر سابق جنوبی یمن کا پرچم آویزاں کرنے کی کوشش کے بعد لڑائی تھی اور اس میں دو یمنی پولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوگیا تھا۔

جنوبی یمن میں اسی ماہ کے اوائل میں فوج کی فائرنگ سے ایک قبائلی سردار کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور قبائل کا اتحاد اس واقعہ کے خلاف احتجاج کررہاہے۔ اس قبائلی سردار اور اس کے محافظوں کو فوجیوں نے ایک چیک پوائنٹ پر روکا تھا اور ان سے اسلحہ حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن محافظوں کے ایسا کرنے سے انکار کے بعد ان کے درمیان مسلح جھڑپ ہوگئی تھی۔

قبائلی اپنے سردار سعید بن ہبریش کے قاتل فوجیوں کو حوالے کرنے، جنوبی صوبہ حضرموت سے فوج کے مکمل انخلاء اور مقامی لوگوں کو مزید ملازمتیں دینے کے مطالبات کررہے ہیں۔اس قبائلی سردار کی ہلاکت کے بعد حضرموت اور دوسرے جنوبی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور مسلح افراد کی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

حضرموت میں مسلح قبائلیوں نے گذشتہ روز وزارتِ تیل کی ایک عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔ گذشتہ سوموار کو وادی حضرموت میں تیل کے ایک کنویں کے نزدیک فوجی چیک پوائنٹ پر حملے میں دو فوجیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔