.

شامی باغیوں کے زیر قبضہ قصبے میں قومی پرچم لہرا دیا گیا

بھوک کے ہاتھوں مجبور معظمیہ کی آبادی کا شامی فوج سے سخت شرائط پر سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں نے اپنے زیر قبضہ قصبے معظمیہ میں خوراک کے بدلے صدر بشارالاسد کی حکومت کا پرچم لہرا دیا ہے۔

شام کی سرکاری فوج نے گذشتہ کئی ماہ سے معظمیہ کا محاصرہ کر رکھا تھا جس کی وجہ سے باغی جنگجوؤں سمیت اس قصبے کی تمام آبادی محصور ہو کررہ گئی تھی۔ اب باغی جنگجوؤں، مقامی آبادی اور سرکاری فوج کے درمیان صلح کا سمجھوتا طے پا گیا ہے جس کے تحت باغی اپنے بھاری ہتھیار فوج کے حوالے کردیں گے اور بیرونی جنگجوؤں کو نکال باہر کریں گے۔

دمشق کے مغرب میں واقع اس قصبے میں شامی فوج گذشتہ ایک سال سے گولہ باری کررہی تھی۔ قصبے کے ارد گرد اسدی فوج نے چیک پوائنٹس قائم کررکھے ہیں۔ اس نے خوراک ،پینے کے صاف پانی اور ایندھن کو قصبے تک لے جانے پر پابندی لگا رکھی تھی اور وہ مقامی آبادی پر باغی جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔

معظمیہ کے مقامی لوگوں نے سمجھوتے کو شرمناک اور کڑوی گولی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے باغیوں کو سبکی کا سامنا ہے۔ سمجھوتے کی ایک شرط کے تحت صرف رجسٹرڈ مکین ہی اب اس قصبے میں رہ سکیں گے۔

احمد نامی ایک مقامی شہری کا کہنا تھا کہ ''ہمارے درمیان افسردگی اور مایوسی پائی جارہی ہے لیکن کسی نے بھی ہماری مدد نہیں کی اور نہ ہماری جانب ہاتھ بڑھایا ہے اور ہم نے پرچم لہرا دیا ہے۔ معظمیہ میں کوئی خوراک نہیں ہے اور ہم نے گذشتہ تین ماہ سے قصبے میں چاول کا ایک دانہ تک نہیں دیکھا''۔

شام کے ایک رکن پارلیمان جارج نخلع نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ باغی جب اپنے بھاری ہتھیار حوالے کردیں گے تو قصبے کے مکین مقامی مسلح گروپ تشکیل دیں گے اور وہی اس کا تحفظ کریں گے۔ سرکاری فوج قصبے کے باہر رہ کر تحفظ کرے گی اوراس کے اندر داخل نہیں ہوگی۔

شامی کارکنان گذشتہ کئی ماہ سے خبردار کررہے تھے کہ معظمیہ میں رہ جانے والے قریباً آٹھ ہزار افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور بچے اور بڑے دونوں بھوک کی وجہ سے متاثر ہو کر مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ستمبر میں اس قصبے میں بھوک کی وجہ سے چار افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔واضح رہے کہ شامی باغیوں نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع متعدد قصبوں اور دیہات پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ ان قصبوں کے باہر شامی فوج تعینات ہے اور وہ ان کا محاصرہ کرکے توپ خانے سے گولہ باری اور فضائی بمباری کررہی ہے۔