شام: کیمیائی ہتھیاروں کی بروقت تلفی میں رکاوٹ آ گئی

اکتیس دسمبر تک کیمیائی ہتھیاروں کی شامی بندرگاہ تک منتقلی ناممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی مقرر کی گئی مدت میں تلفی کا امکان مشکل سے دوچار ہو گیا۔ شام کے وعدے کے مطابق اکتیس دسمبر تک 20 ٹن کی مقدار میں موجود ٹاکسن کو شامی بندرگاہ تک لانا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ اس امر انکشاف ایک روسی سفارت کار نے کیا ہے۔

روسی سفارت کارمیخائیل الیانوف کے مطابق شامی کیمیائی ہتھیار جن میں سب سے اہم ٹاکسن بھی شامل ہے اسے 31 دسمبر تک شام کی شمالی بندرگاہ لتاکیہ پر منتقل کیا جانا تھا۔ لیکن اب جبکہ صرف دودن باقی ہیں یہ کام نہیں ہو سکا ہے۔ واضح رہے شامی بندرگاہ سے خصوصی آلات سے لیس کیے گئے بحری جہاز کی مدد سے کیمائی ہتھیاروں کو تلفی کیلیے اگلی سمندری منزل تک لے جانا ہے۔ لیکن خبر رساں ادارے آر آئی اے نے روسی سفارتکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ '' منتقلی ابھی شروع ہی نہیں ہو سکی ہے۔'' خبر رساں ادارے نے روسی سفارتکار کے بارے میں بتایا کہ سفارتکار نے یہ انکشاف کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اہم اجلاس میں شرکت کے بعد پر کیا ہے۔

واضح رہے ٹاکسن کا سارین گیس کی تیاری میں غیر معمولی کردار ہوتا ہے۔ جبکہ وی ایکس اور دیگر کیمیکلز کی پیکنگ تو مکمل کر لی گئی ہے، تاہم انہیں شام کی شمالی بندرگاہ تک پہنچانے میں ابھی کافی رکاوٹیں اور مسائل موجود ہیں۔ '''' سب سے اہم مسئلہ ان سڑکوں کا کلئیر نہ ہو سکنا ہے جن کے راستے ان کیمیائی ہتھیاروں کی بندرگاہ تک منتقلی ہونا ہے۔

روس جس نے شام کو پچھلے تین سال پر محیط خانہ جنگی میں ہر ممکن مدد دی ہے نے گزشتہ ہفتے 75 ہوائی راستے سے ایسے محفوظ ٹرک اور گاڑیاں بھجوائی ہیں جو کیمیائی ہتھیاروں کو لتاکیہ کی بندرگاہ تک لے جانے میں کام آئیں گی۔

یاد رہے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع سے متعلق ادارے او پی سی ڈبلیو کے سربراہ نے رواں ماہ کے شروع میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ہتھیاروں کی تلفی کا مقررہ مدت میں ہدف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اب یہ تقریبا واضح ہو گیا ہے کہ ڈیڈ لائین پوری کرنا ممکن نہیں رہا۔

روسی سفارت کار کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق عالمی ادارے اور امریکا روس سمیت دیگر ممالک بندرگاہ تک ان خطرناک ہتھیاروں کی رسائی ممکن بنانے کیلیے ایک منصوبے پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم میخائیل الیانوف نے اس منصوبے کے خدوخال ظاہر نہیں کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں