عراقی اپوزیشن رہنما کے خلاف فورسز کا خونیں کریک ڈاؤن، بھائی قتل

وزیر دفاع کی یقین دہانی کے باوجود رمادی میں اپوزیشن مظاہرین کے خلاف کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراقی سیکیورٹی فورسز نے اپوزیشن کے ایک رکن پارلیمنٹ احمد العلوانی کو حراست میں لینے کے لیے ایک خونیں کارروائی میں ان کے چھوٹے بھائی سمیت چار افراد کو قتل کر دیا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق اپوزیشن جماعت العراقیہ بلاک کے رکن پارلیمان احمد العلوانی اور سیکڑوں افراد نے صوبہ الانبار کے دارالحکومت الرمادی میں حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا۔ وزیر اعظم نوری المالکی کے زیر کمان سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز ان کے گھر پر دھاوا بولا اور احمد العلوانی کو حراست میں لے لیا اور ان کے بھائی سمیت چار افراد کو گولیاں مار قتل کر دیا۔

یہ افسوسناک واقعہ وزیر دفاع سعدون الدلیمی کی جانب سے اپوزیشن کا دھرنا طاقت کے ذریعے ختم نہ کرنے کی یقین دہانی کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے العلوانی کو حراست میں لینے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا جس پر ان کے محافظوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ بعد ازاں العلوانی نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی تقریبا ساٹھ جیپوں نے العلوانی کے گھر کا محاصرہ کیا۔ فریقین کے درمیان دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ عراقی حکومت کے ذرائع نے بھی العلوانی کوحراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔

العلوانی کی گرفتاری غیر قانونی قرار

درایں اثناء احمد العلوانی کی ایک خونیں کارروائی میں گرفتاری کے بعد عراقی حزب اختلاف نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رکن پارلیمنت ولید المحمدی نے"العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ العلوانی کی گرفتاری غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سیکیورٹی فوسز عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ناکام ہو چکی ہیں اور نہتے شہریوں پرغصہ اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے العلوانی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے آیندہ اس طرح کے واقعات نہ دہرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ المحمدی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہ نماؤں کےخلاف حکومت کو کسی غیرقانونی کارروائی میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ العلوانی کے گرفتاری اور کے بھائی کا عجلت میں قتل ناقابل فہم ہے۔

قبل ازیں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے صوبہ الانبار میں حکومت کے خلاف لگائے گئے اپوزیشن کے احتجاجی خیموں کو نذر آتش کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے مظاہرین کو دھرنا فوری ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ کل جمعہ کو انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ [جمعہ کا دن] فتنہ و فساد کا آخری دن ہے۔ اس کے بعد کسی کو احتجاجی کیمپ لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ عراق کے صوبہ الانبار کے شہر رمادی میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور حکومتی ناکامی کے خلاف مقامی شہریوں نے کئی روز سے ایک احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت شدت پسندوں اور قاتل ملیشیا کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے قتل عام اور ان کی گھر بدری کا سلسلہ بند کرائے۔ جب تک حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتی وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

عراقی وزارت دفاع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے الرمادی میں اپوزیشن اور دیگر مظاہرین کے احتجاجی کیمپ میں دہشت گرد بھی گھس آئے تھے،انھوں نےاسلحہ اٹھا رکھا تھا اور وہ سیکیورٹی فورسز پرحملے بھی کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں