جنیوا ٹو میں ایرانی شرکت کی مخالفت غیر منطقی ہے: بشار رجیم

ایران خطے میں شام کا کلیدی اتحادی ہے: وزیر خارجہ ولید معلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی بشار رجیم نے زور دے کر کہا ہے کہ شام میں قیام امن اور عبوری حکومت کی تشکیل کیلیے بیس جنوری سے متوقع جنیوا امن کانفرنس میں ایران کی شمولیت ضروری ہو گی۔ ایران کو خطے میں اپنا کلیدی اتحادی قرار دیتے ہوئے شامی وزیر خارجہ ولید معلم نے کہا ہے کہ شام ایران کو جنیوا ٹو کا حصہ بنانے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا '' یہ غیر منطقی ہو گا کہ امریکا یا نام نہاد اپوزیشن ایران کو سیاسی بنیادوں پر بیس سے بائیس جنوری تک ہونے والی سہ روزہ دوسری امن کانفرنس سے باہر رکھنے کی بات کریں۔'' واضح رہے ایران کو شامی اپوزیشن کی مخالفت کی وجہ سے ابھی تک جنیوا امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

شام کیلیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے الاخضر براہیمی کا کہنا ہے '' ہم ایران کی جنیواٹو میں شرکت پر ابھی تک متفق نہیں ہوئے ہیں۔'' الاخضر براہیمی نے یہ بات امریکی اور روسی حکام سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کا کہنا تھا '' اس میں شبہ نہیں کہ ہم نے اقوام متحدہ میں ایرانی شرکت کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ہمارے امریکی شراکت دار ابھی تک اس بات پر متفق نہیں ہوئے کہ ایران کی شرکت درست ہو گی۔''

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے 23 دسمبر کو اس بارے میں کہا تھا کہ شام کے معاملے پر دوسری امن کانفرنس کی دعوت دسمبر کے اواخر میں دی جائے گی اور ایران کی شرکت کیلیے ایک نئی کوشش شروع کی جائے گی۔

بان کی مون کا یہ بھی کہنا تھا کہ '' جنیوا ٹو کے متوقع شرکاء کی فہرست مکمل ہونے کے قریب ہے اس لیے امید ہے کہ ایران کی شرکت کا معاملہ جلد طے ہو جائَے گا۔''

لیکن اب شام کے بعد بیروت میں خوفناک بم دھماکوں کے باعث ایران کیلیے خطے میں سیاسی مزاحمت مزید بڑھنے کا خطرہ ہے، تاہم شامی رجیم ایران کو جنیوا ٹو میں شریک کرانے پر یکسو ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں