"حزب اللہ لبنان کیلیے خطرہ ہے، ایران اسکی امداد بند کرے"

شطح کا ہلاکت سے محض ایک ہفتہ پہلے ایرانی صدر کے نام کھلا خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جمعہ کے روز لبنانی دارالحکومت میں ایک خوفناک دھماکے کا نشانہ بننے والے سابق وزیر خزانہ اور اعتدال پسند رہنما محمد شطح نے اپنے بہیمانہ قتل سے محض ایک ہفتہ پہلے ایرانی صدر سے شیعہ عسکری ملیشیا حزب اللہ کی سرپرستی سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

محمد شطح نے یہ مطالبہ ایک غیر روائتی طور پر لکھے گئے خط میں کیا جس کا مقصد شیعہ ملیشیا کی وجہ سے لبنان کی سلامتی اور ریاستی اقتدار اعلی کیلیے پیدا شدہ سنگین خطرات سے آگاہ کرنا تھا۔ اس خط کیلیے محمد شطح نے لبنانی ارکان پارلیمنٹ کے دستخط بھی حاصل کیے تاکہ خط کی حیثیت لبنانی عوام کے نمائندہ کی ہو۔

ایرانی صدر کو لکھے گئے اس خط کو 14 مارچ کو وجود میں آنے والے سیاسی اتحاد کی تائید بھی حاصل تھی۔ واضح رہے لبنان کا یہ سیاسی اتحاد شام کی بشار رجیم اور اس کی لبنانی اتحادی حزب اللہ کے ہاتھوں شامی شہریوں کے قتل عام کی مخالفت کرتا ہے۔

معروف اخبار وال سٹریٹ جرنل نے محمد شطح کی طرف سے حسن روحانی کو لکھے گئے خط کا متن اپنی اشاعت کا حصہ بنایا ہے۔

محمد شطح نے صدر روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے خط میں لکھا ہے '' ہم غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے آپ سے اور خطے کے دوسرے رہنماوں کے ساتھ ساتھ عالمی رہنماوں سے مخاطب ہو رہے ہیں کہ ہمارے ملک لبنان کیلیے یہ غیر معمولی طور پر خطرے کی گھڑی ہے، لبنان کی صرف اندرونی نہیں بیرونی سلامتی اور ریاستی اتحاد بھی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرے میں ہے۔

یہی موقع ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہماری کامیابی یا ناکامی کیلیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اسی وجہ سے ہم یہ خط آپ یعنی صدر ایران کو لکھ رہے ہیں۔''

اس خط میں 24 نومبر کو ایرانی جوہری تنازعے پر چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے محمد شطح نے لکھا ہے '' لبنان اپنی سلامتی اور اقتدار اعلی کے تحفظ کیلیے ایران کی طرف سے زیادہ کمٹمنٹ کا متقاضی ہے۔''

وہ مزید لکھتے ہیں ''جوہری پروگرام پر ہونے والا حالیہ عبوری معاہدہ اور وہ بیانات جو آپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد دیے ہیں، ان کی بنیاد پر ہماری یہ توقعات پہلے سے بڑھ گئی ہیں کہ ایران کے صدر کے طور پر آپ مثبت راستے پر ٹھوس قدم لیں گے۔'' آپ کے یہ ٹھوس اقدام '' لبنان اور خطے کیلیے ضروری ہیں تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کیا ایران خطے کے حوالے سے واقعی اپنی پالیسیوں کو ازسر نو دیکھ رہا ہے؟''

محمد شطح مزید لکھتے ہیں کہ لبنانی شیعہ ملیشیا ایرانی پاسداران انقلاب سے ملنے والی مدد کی بدولت ہی پچھلے تیس سال سے ایک عسکری گروپ کی صورت ابھری ہے اور اب لبنان کی ریاستی اتھارٹی کیلیے ایک خطرہ بن گئی ہے۔''

وہ ایرانی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں'' حزب اللہ مسلسل ملنے والے بھاری اسلحے کی وجہ سے ریاست سے ماورا بھاری اسلحے کی حامل طاقت بن گئی ہے، یہ آپ کے ملک کی براہراست مدد اور سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔''

سابق لبنانی وزیر محمد شطح نے ایرانی صدر کے نام لکھے گھے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ '' یہ مسلمہ بات ہے کہ لبنان کے عوام شام کی لڑائی کے بارے میں بٹے ہوئے ہیں، ہم سیاسی اتحاد کے ناطے کلی طور پر سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے شامی عوام کے ساتھ ہیں۔تاہم لبنان کے نمائندے ہونے کے حوالے سے ہماری اصل ذمہ داری لبنان کا تحفظ ہے، کہ آگ اور موت ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے، '' کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ شام میں جاری تصادم پہلے ہی ہمارے بہت سے سرحدی قصبات، اور دیہات تک تشدد کی آگ منتقل کر چکا ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں