عراقی فورسز کی کارروائی،10 افراد ہلاک،44 ارکان پارلیمان مستعفی

رمادی میں عراقی فورسز نے احتجاجی مرکز کو بزور خالی کرالیا،فلوجہ میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف احتجاجی کیمپ کو بزورخالی کرالیا ہے اور ان کی کارروائی میں دس افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔اس کے ردعمل میں اہل سنت سے تعلق رکھنے والے چوالیس ارکان پارلیمان احتجاجاً مستعفی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے سوموار کو بغداد سے مغرب میں واقع الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی کے نزدیک اہل سنت مظاہرین کے احتجاجی مرکز پر کریک ڈاؤن کیا اور ان کے خیمے اکھاڑ دیے۔عراق کے سرکاری ٹی وی عراقیہ کے مطابق یہ کارروائی سکیورٹی فورسز ،مذہبی رہنماؤں اور مقامی قبائل کے درمیان بات چیت کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کے بعد کی گئی ہے۔

لیکن عراق کے ایک سرکردہ اور بااثر سنی عالم دین شیخ عبدالملک السعدی نے ایک مختلف کہانی بیان کی ہے۔وہ الانبار احتجاجی تحریک کے حامی ہیں اور انھوں نے صوبے کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی عزت وناموس کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔انھوں نے تمام سنی ارکان پارلیمان سے کہا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔

ان کے اس بیان کے فوری بعد اہل سنت کے اتحاد عراق نیشنل بلاک کے ایک رکن ظفرالعینی نے صحافیوں کو بتایا کہ پارلیمان کے چوالیس ارکان نے وزیراعظم نوری المالکی کے سکیورٹی آپریشن کے خلاف احتجاج کے طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

مستعفی ارکان پارلیمان نے الانبار سے فوج کے انخلاء اور گرفتار رکن پارلیمان احمد العلوانی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔انھیں عراقی سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز ایک خونریز کارروائی کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔

درایں اثناء وزیراعظم نوری المالکی کے ترجمان علی الموساوی نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمادی میں مظاہرین کو اب بھی احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن انھیں خیمے لگانے اور سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے رمادی کے نزدیک سنی احتجاجی مرکز کو القاعدہ کا ہیڈ کوارٹر قرار دیا تھا اور مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ اس کو خالی کر دیں۔وزیر اعظم کے اس انتباہ کے بعد عراقی فورسز نے زبردستی مظاہرین کے خیمے اکھاڑ دیے اور انھیں آگ لگادی۔رمادی میں اس کارروائی کے بعد ایک اور سنی اکثریتی مغربی شہر فلوجہ میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جن میں دس سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

واضح رہے کہ عراق کے سنی اکثریتی علاقوں میں گذشتہ سال کے آخر میں وزیرخزانہ کے محافظوں کی گرفتاری کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔اہل سنت کے عراقیہ بلاک سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ رافع العیساوی کے نو محافظوں کوبغداد میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

صوبہ الانبار سے تعلق رکھنے والے اہل سنت نے ان کی گرفتاریوں کو اہل تشیع کی بالادستی والی حکومت کی معاندانہ کارروائی قراردیا تھا۔شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت میں سنی مسلمانوں کو یہ شکایت رہی ہے کہ ایک جانب انھیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اور دوسری جانب سکیورٹی فورسز ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کررہی ہیں۔اب ان کے احتجاجی کیمپ کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے طاقت کے بے مہابا استعمال سے عراق میں سنی شیعہ تقسیم مزید گہری ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں