مصری خفیہ پولیس نے دو صحافی گرفتار کر لیے

حراست میں لیے گئے صحافی سی این این اور الجزیرہ سے وابستہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی خفیہ پولیس نے قاہرہ میں کام کرنے والے دو صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ دونوں صحافی جن میں سے ایک مصری اور دوسرا آسٹریلین شہری ہے جو الجزیرہ ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ مصری وزارت داخلہ نے دونوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر خبریں ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں اور مصرکی اندرونی سلامتی کیلیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

صحافیوں کی گرفتاری کیلیے خفیہ پولیس کے افسروں نے قاہرہ ہوٹل میں ریڈ کیا اور انہیں گرفتار کرنے کے علاوہ ان کے پاس موجود ابلاغی آلات بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ واضح رہے الجزیرہ کے دفاتر کیلیے مشکلات کے بعد سکیورٹی اداروں کے خوف سے عارضی طور پر الجزیرہ کا دفتر قاہرہ ہوٹل میں منتقل کر لیا تھا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں حراست میں لیے گئے دونوں صحافی الجزیرہ کے بیورو چیف محمد عدیل فہمی اور آسٹریلین صحافی پیٹر گریسٹی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ انہیں اخوان کے حامی بتایا گیا ہے۔

اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد اس سے وابستگی رکھنا، اس کا حامی ہونا، حتی کہ ایسی تحریر اپنے پاس رکھنا جس میں اخوان کا ذکر ہو جرم ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل کی براہ راست نشریات جاری کرنا مصری سلامتی کیلیے نقصان دہ ہے۔ نیز ان صحافیوں کے پاس سے اخوان کی پبلیکشنز بھی ملی ہیں۔ آسٹریلن صحافی اس سے پہلے بی بی سی سے وابستہ رہ چکا ہے اور اس نے 2011 میں صومالیہ کے بارے میں ڈاکومنٹری بنانے پر ایوارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے۔ جبکہ مصری صحافی محمد عدیل فہمی سی این این سے بھی وابستہ ہے اور قاہرہ کا نامور صحافی ہے۔

فوجی سرپرستی میں قائم عبوری حکومت اس سے پہلے بھی الجزیرہ سے وابستہ متعدد اخبار نویسوں کو حراست میں لے چکی ہے ۔ ان میں عبداللہ الشامی بھی شامل ہیں جنہیں 14 اگست کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ رابعہ الدوایہ پر سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون کی کوریج کررہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں