مصر: سیاسی پابندیوں پر تشویش، دھماکوں کی تحقیقات کیلیے امریکی پیشکش

چک ہیگل کی فون پر سیسی سے گفتگو، تیز تر امریکی رابطے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے مصر میں حالیہ دھماکوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح کو پیش کش کی ہے کہ امریکا دھماکوں کی تحقیقات میں مدد دینے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر دفاع نے جنرل سیسی سے فون پر تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران امریکا کی طرف سے مصر کی عبوری حکومت کے ساتھ یہ دوسرا اعلی سطح کا رابطہ ہے، اس سے پہلے وزیر خارجہ جان کیری نے عبوری وزیر خارجہ نبیل فہمی سے فون پر بات کرتے ہوئے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے پر اپنے تحفظات اور منصورہ میں ہونے والے کار بم دھماکے پر افسوس کیا تھا۔

چک ہیگل نے یہ فون کال شرقیہ صوبے میں اتوار کے روز فوجی انٹیلی جنس کی عمارت کو بم دھماکے کا نشانہ بنائے جانے کے بعد کی ہے۔ واضح رہے ایک ہفتے کے دوران ہونے والے اس تیسرے دھماکے کو مصری فوج نے بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

چک ہیگل نے اپنی فون کال کے دوران مصر میں سیاسی عمل میں سب کو ساتھ لے کر چلنے پر بھی زور دیا۔ اس دوران سکیورٹی کیلیے اقدامات اور سیاسی آزادیوں میں توازن پیدا کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رئیر ایڈمرل جان کیربی کا کہنا ہے امریکی وزیر دفاع نے نئے دستور پر متوقع ریفرنڈم سے پہلے موجود سیاسی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

واضح رہے فوجی سرپرستی میں قائم مصر کی عبوری حکومت نے اخوان کے خلاف ان دنوں ایک نیا کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سینکڑوں کارکن گرفتار کر لیے گئے ہیں، جبکہ ہزاروں پہلے ہی جیلوں میں ہیں۔ اس صورتحال میں خوف کا یہ عالم ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی اخوان کے حامی اب اپنی سرگرمیاں چھوڑ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں