مصر: صدارتی انتخاب پارلیمانی انتخاب سے پہلے کرانے کا عندیہ

جنرل سیسی صدارتی امیدوار ہونگے یا نہیں، ابہام ختم ہونے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں فوج کی سرپرستی میں قائم عبوری حکومت کے سربراہ عدلی منصور نے پہلے سے دیے گئے نقشہ راہ میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب پارلیمان کے انتخاب سے پہلے کرائے جا سکتے ہیں۔ عدلی منصور کے مطابق انتخابی ترتیب کا یہ الٹ پھیر نقشہ راہ کی خلاف ورزی نہیں ہو گا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ عبوری حکومت کی اعلی ترین سطح سے نقشہ کار میں متوقع تبدیلی کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے۔ واضح رہے یہ نقشہ کار تین جولائی کو فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح کے ہاتھوں پہلے منتخب مصری صدر محمد مرسی کے برطرف کیے جانے کے بعد عبوری حکومت نے دیا تھا۔

اس نقشہ کار کی ترتیب کے بدلنے کا ایک غیر رسمی اشارہ چند ہفتے قبل اس وقت بھی سامنے آیا تھا جب عبوری حکومت کی نامزد کردہ 50 رکنی دستور ساز کمیٹی نے مسودہ دستور پیش کیا تو اس بارے میں ابہام کی نشاندہی کی گئی کہ یہ واضح نہیں کہ پہلے صدارتی انتخاب ہو گا یا پارلیمان کا انتخاب کرایا جائے گا، تاہم بعد ازاں اس بارے میں خاموشی ہو گئی۔

عبوری صدر عدلی منصور کیطرف سے اب اتوار کے روز پہلے صدارتی انتخاب کرائے جانے کی خواہش سامنے آنے سے پہلے ہی وہ بعض متنازع شقوں کے حامل نئے دستور کی حتمی منظوری کیلے ریفرنڈم کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کر چکے ہیں۔ ریفرنڈم 14 اور 15 جنوری کو ہو گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب پہلے کرانا عبوری حکومت کے قدم مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ آنے والے صدر کیلیے راہ ہموار کرنے اور نئے منتخب ہونے والے صدر کو منتخب پالیمان و حکومت پر حاوی رکھنے کیلیے مفید ثابت ہو گا۔ مبصرین کے مطابق اخوان المسلمون کے حامیوں کے جاری ملک گیر احتجاج کے باعث ایسا کیا جانا ضروری ہے۔

یاد رہے مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح کے صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آنے کے حوالے سے عوامی سطح پر ابھی تک ابہام موجود ہے۔ البتہ پہلے صدارتی انتخاب کرانے کی خواہش ظاہر کیے جانے سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ فوج اور عبوری حکومت کے ذمہ دار صدارتی امیدوار کے حوالے سے عوامی سطح پر پائے جانے والے اس ابہام کو بھی جلد دور کر دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں