"القاعدہ اور قبائلی عمائد الانبار کے پرتشدد واقعات میں گڈ مڈ ہو گئے"

ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے سازشیں کی جا رہی ہیں : علاوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے سابق وزیر اعظم ایاد علاوی نے صوبہ الانبار میں گذشتہ کئی روز سے جاری کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر ریاست کے اندر رعب اور خوف پر مبنی اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ الانبار میں مقامی آبادی، قبائلی عمائدین، قومی شخصیات، پرامن مظاہرین اور القاعدہ آپس میں گڈ مڈ ہو چکے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ الانبار کی کشیدگی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی جماعت "قومی اتحاد" کے پارلیمانی بلاک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین اور قانون کی رو سے تمام شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن کچھ عناصر احتجاج کی آڑ میں عراق کی وحدت کو پارا پارا کر رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے بلا جواز نہیں لیکن ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ صوبہ الانبار میں پیش آئے واقعات سے ایسے لگ رہا ہے کہ کچھ لوگ ملک کے اندر خوف اور دہشت کی ایک دوسری ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ایاد علاوی کی جماعت نے وزیر اعظم نوری المالکی کی پالیسیوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ نوری المالکی اپوزیشن کوطاقت کے ذریعے دبانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ انہوںنے سنہ 2011ء میں پولیس کو بغداد کے تحریر اسکوائر میں پرامن مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ان کے خلاف ملک گیر تحریک شروع ہو گئی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے نوری المالکی کی حکومت سر تا پا بدعنوانی کی دلدل میں اتری ہوئی ہے۔ حکومت شہریوں کو امن و انصاف کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس مایوسی کی کیفیت میں محض عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے اور انتخابات میں عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے پرامن مظاہرین کے خلاف ظلم تعدی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ صوبہ الانبارمیں اہل سنت مسلک کے سیکڑوں حامی گذشتہ کئی روز سے حکومت کےخلاف احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ حکومت نے سیکیورٹی فورسز کی مدد سے مظاہرین کو منتشر کرنےکی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن کے نمائندہ رکن پارلیمنٹ احمد العلوانی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے مگر مظاہرین ابھی تک اپنے موقف میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز یہ خبریں آئی تھیں کہ العلوانی کو رہا کر دیا گیا ہے، تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ حکومت نے ان کی رہائی کے لیے مظاہرین کے منتشر ہونے کی شرط رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں