.

اوسلو معاہدے سے قبل حراست میں لیے گئے 26 فلسطینیوں کی رہائی

اسیران کی رہائی امن مذاکرات، جذبہ خیر سگالی کے تحت ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات کی بحالی اور جذبہ خیر سگالی کے تحت سنہ 1993ء سے قبل حراست میں لیے گئے 26 فلسطینی رہا کر دیے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیلی جیل عوفر سے رہائی کے بعد 18 فلسطینیوں کو دو بسوں کے ذریعے مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ پہنچایا گیا۔ پانچ اسیران رہائی کے بعد بیت حانون کراسنگ سے غزہ روانہ کر دیے گئے جبکہ تین افراد کو مشرقی بیت المقدس میں ان کے گھروں کو روانہ کردیا گیا ہے۔

فلسطینی اسیران کی رہائی کا اعلان سُنتے ہی رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹرز کے باہر سیکڑوں شہری جشن منانے اور اپنے پیاروں کے استقبال کے لیے جمع ہو گئے۔ استقبال کرنے والوں میں صدر محمود عباس اور حکومتی عہدیداروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

ادھرغزہ اور مغربی کنارے کو ملانے والی بیت حانون [ایریز] کراسنگ پر بھی سیکڑوں افراد اپنے پیاروں کے استقبال کے لیے پہنچے تھے۔ بیت المقدس میں بھی فلسطینیوں نے رہائی پانے والے شہریوں کا پرجوش استقبال کیا۔

خیال رہے کہ رواں سال جولائی میں امریکا کی نگرانی میں شروع ہونے والی فلسطین ۔ اسرائیل امن بات چیت کے جواب میں اسرائیل نے طویل عرصے تک قید کاٹنے والے 104 فلسطینیوں کو چار مراحل میں رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل 13 اگست اور 30 اکتوبر کو 50 سے زائد فلسطینی رہا کیے گئے تھے۔ چوتھے اور آخری مرحلے میں مزید 26 فلسطینیوں کی رہائی کا وعدہ کیا گیا ہے تاہم اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دو درجن سے زائد فلسطینی اسیران کی رہائی ایک ایسے وقت ہوئی ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری گذشتہ مارچ کے بعد مشرق وسطیٰ کا دسواں دورہ پرسوں جمعرات سے شروع کر رہے ہیں۔ جان کیری فلسطین ۔ اسرائیل امن مذاکرات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ فریقین میں اب تک مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں تاہم بند کمرے کے اجلاسوں میں ہونے والی کسی پیش رفت کے بارے تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔