عراقی وزیر اعظم نے الانبار کے شہروں سے فوج کو واپس بلا لیا

ملک کی سنی آبادی کے ساتھ پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے مغربی صوبہ الانبار کے شہروں سے فوج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے یہ اقدام صوبے میں اہل سنت کے حکومت مخالف احتجاجی کیمپ کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کیا ہے۔

نوری المالکی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں مسلح افواج سے کہا گیا ہے کہ ''وہ خود کو الانبار کے صحرا میں القاعدہ کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کے لیے وقف کردیں اور شہروں کا انتظامی کنٹرول مقامی اور وفاقی پولیس کے حوالے کردیں''۔

عراقی وزیراعظم کی جانب سے یہ اعلان الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیا گیا ہے۔ان جھڑپوں میں چار اور افراد مارے گئے ہیں۔ اس طرح دو روز میں مرنے والوں کی تعداد چودہ ہو گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق منگل کو جھڑپوں میں تین مسلح افراد اور عراقی فوج کا ایک خفیہ بندوق بردار مارا گیا ہے۔ صوبہ الانبار میں عراقی فورسز نے گذشتہ روز اہل سنت کے حکومت مخالف احتجاجی کیمپ کو بزور خالی کرا لیا تھا اور ان کی کارروائی میں دس افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے تھے۔ ان جھڑپوں کے بعد رمادی کی مساجد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جہاد کے اعلانات کیے گئے تھے۔

رمادی کے نزدیک گذشتہ ایک سال سے جاری احتجاجی کیمپ کے خلاف خونین کریک ڈاؤن کے بعد اہل سنت سے عراقیہ اتحاد سے تعلق رکھنے والے چوالیس ارکان پارلیمان احتجاجاً مستعفی ہوگئے ہیں۔ مستعفی ارکان پارلیمان نے الانبار سے فوج کے انخلاء اور گرفتار رکن پارلیمان احمد العلوانی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھیں عراقی سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز ایک خونریز کارروائی کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔رمادی میں ان کے گھر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ان کا ایک بھائی اور پانچ محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں