.

جان کیری کی نئے سال کے ساتھ ہی مشرق وسطی آمد

امریکی وزیر خارجہ کا یہ دسواں دورہ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئے سال کے پہلے دن امریکی وزیر خارجہ جان کیری اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کے مشکل مرحلے پر ایک مرتبہ پھر مشرق وسطی کے دورے پر آمد آمد ہے۔ جان کیری کے مشرق وسطی کے دسویں باضابطہ دورے کے حوالے سے سفارتی حلقے پر امید ہیں کہ نیا سال امن معاہدے کا سال ہوگا۔

ایک سینئیر امریکی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ مذاکراتی کوششوں کی بنیاد پرایک معاہدہ ممکن ہو جائے گا اور معاہدء کیلیے دیے گئے خاکے میں عملی اور تفصیلی اقدامات ہوں گے۔ دوسری جانب رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ ''ہم مشرقی یروشلم میں یہودی نو آبادیوں کے کینسر کے مستقل بنیادوں مریض نہیں رہیں گے۔''

ایک امریکی ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہودی بستیوں کے قیام پر فلسطینی عوام اور عالمی برادری کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سے اتفاق کیا کہ یہ درست سوال ہیں ۔ امریکی ذمہ دار نے اس موقف کا اظہا رکیا کہ امریکا یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی اور بلا جواز سمجھتا ہے۔

امریکی حکام نے صاف گوئی سے کہا ''ہم جان کیری کے اس دورے سے یہ نہیں سمجھتے کہ یہ مسئلہ فوری حل ہو جا ئے گا، اس دورے کی وجہ محمود عاس کی جانب سے یہودی بستیوں کے خلاف قانونی اور سفارتی کاروائی کی دھمکی بنی ہے۔''

جان کیری پچھلے ماہ کے وسط میں دوروزہ دورے پر آئے تھے اور انہوں اسرائیلی وزیر اعظم بنیمن نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کیں، لیکن اس دوران اسرئیل کی جانب سے نئی یہودی آبادیوں پر اصرار اور سرسبز وادی اردن کو اپنا حصہ بنانے کے اعلان نے صورتحال کو پھر بگاڑ دیا ہے۔

وہ اپنے اس دسویں دورے کے موقع پر بنجمن نیتن یاہو اور محمود عباس سے ملاقات کر کے نئے سال کو امن معاہدے کا سال بنانے کی کوشش کریں گے۔