.

جوہری معاہدہ عملدرآمد، ایران کی مذاکراتی ٹیم میں وسعت

ٹیم میں تمام طبقوں کی نمائندگی یقینی بنانے کیلیے اضافہ کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے ابتدائِی معاہدے کے بعد اگلے مرحلے کیلیے اپنی مذاکراتی ٹیم کو وسعت دے دی ہے۔ اس مقصد کیلیے سخت گیر طبقے کو بھی مذاکراتی ٹیم میں نمائندگی دی گئی ہے تاکہ ملک کے اندر ہونے والی تنقید کا تدارک کیا جاسکے۔

یہ پیشرفت بدھ کے روز سامنے آئی ہے۔ اس سے محض ایک روز قبل مغربی مذاکرات کاروں نے اطلاع دی تھی کہ وہ عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلات طے کرنے کے قریب ہیں۔

واضح رہے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر چھ بڑی طاقتیں جنیوا میں مذاکرات کے تین ادوار کے بعد 24 نومبر کو ابتدائی معاہدے پر پہنچی تھیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں مہر اور فارس کے مطابق اب اس مذاکراتی ٹیم میں ملک کے تمام طاقتور حلقوں اور دھڑوں کی نمائندگی ممکن ہو گئی ہے۔ تاہم اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں

عام تاثر یہ ہے کہ مذاکراتی ٹیم میں ملک کے سخت گیر طبقات کی شمولیت ممکن بنائی گئی ہے۔ تاکہ کسی نئی تنقید کا سامنا کرنے سے پہلے ہی اس کا تدارک بھی ہو جائے اور ایک مختلف نقطہ نظر بھی سامنے آسکے۔

اس سے پہلے صدر حسن روحانی کوملک کے اندر تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔ تنقید کرنے والے حلقوں کا موقف ہے کہ ان سے مذاکرات کی تفصیلات کو اوجھل رکھا گیا۔