.

الانبار میں''سکیورٹی بریک ڈاؤن'' کے بعد فوج ہٹانے کا فیصلہ واپس

الرمادی میں چار پولیس اسٹیشن نذرآتش،بیسیوں زیرحراست افراد فرار ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے شورش زدہ مغربی صوبے الانبار میں ''سکیورٹی بریک ڈاؤن'' اور پولیس اسٹیشنوں پر مسلح افراد کے حملوں کے بعد شہروں سے فوج ہٹانے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک نشریے کے مطابق وزیراعظم مالکی نے کہا ہے کہ''ہم فوج کو نہیں ہٹائیں گے بلکہ اضافی فورسز الانبار میں بھیجیں گے''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے کے مکینوں اور حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق اس سے پہلے الانبار کے گورنر احمد خلاف الضیابی نے مسلح افراد کے صوبائی دارالحکومت الرمادی میں چار پولیس اسٹیشنوں پر حملوں کے بعد صوبے میں ''سکیورٹی بریک ڈاؤن'' کا اعلان کردیا تھا۔مسلح افراد نے ان تھانوں کو نذرآتش کردیا اور وہاں سے بیسیوں زیرحراست افراد فرار ہوگئے ہیں۔

مشتعل افراد نے دو فوجی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی ہے۔اس شہر میں سوموار کو عراقی فورسز کی اہل سنت کے احتجاجی کیمپ کو اکھاڑنے کے لیے کارروائی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔گذشتہ دوروز میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں میں چودہ افراد مارے گئے ہیں۔

وزیراعظم نوری المالکی نے اہل سنت مظاہرین کے احتجاجی کیمپ کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد منگل کو الانبار کے شہروں سے فوج کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے مسلح افواج کو خود کو الانبار کے صحرا میں القاعدہ کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی تک محدود رکھنے اور شہروں کا انتظامی کنٹرول مقامی اور وفاقی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اب انھوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

عراقی کابینہ نے منگل کو الانبار کے مکینوں کی حمایت حاصل کرنے لیے انھیں امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے تحت تیل ،تجارت ،اور صحت کی وزارتیں خوراک ،ایندھن اور طبی سامان مہیا کریں گی۔دوسری وزارتیں بھِی صوبے میں ضروری اشیاء مہیا کریں گی۔

رمادی کے نزدیک گذشتہ ایک سال سے جاری احتجاجی کیمپ کے خلاف خونین کریک ڈاؤن کے بعد اہل سنت کے عراقیہ اتحاد سے تعلق رکھنے والے چوالیس ارکان پارلیمان احتجاجاً مستعفی ہوگئے تھے۔انھوں نے الانبار سے فوج کے انخلاء اور گرفتار رکن پارلیمان احمد العلوانی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔