.

لبنان میں القاعدہ سے وابستہ گروپ کا سربراہ گرفتار

بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر بم حملے کے الزام میں تفتیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں فوج نے القاعدہ سے وابستہ گروپ عبداللہ عزام بریگیڈزکے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔اس گروپ نے نومبر میں بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے باہر دو بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

لبنان کے وزیردفاع فیاض غصن نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ عبداللہ عزم بریگیڈز کے''امیر''ماجد الماجد کو لبنانی فوج کی انٹیلی جنس سروسز نے بیروت سے گرفتار کیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ماجد الماجد لبنانی حکام کو مطلوب تھے اور ان سے کسی خفیہ مقام پر تحقیقات کی جارہی ہے''۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ گرفتاری کب عمل میں آئی تھی۔

درایں اثناء اس انتہا پسند گروپ کے ایک رکن سراج الدین ضریقات نے آج اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ معطل کردیا ہے۔ضریقات نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس بم حملے میں ایران کے کلچرل اتاشی سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر حزب اللہ نے صدر بشارالاسد کی حمایت میں اپنے جنگجو شام میں بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا تو لبنان میں مزید دھماکے کیے جائیں گے۔

ایران کے سابق صدرابوالحسن بنی صدر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیروت میں ایرانی سفارت خانے میں تباہ کن بم دھماکوں کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ'' شام میں جو کچھ ہورہا ہے ،یہ ایک عالمی جنگ ہے،اس میں تمام علاقائی قوتیں ملوث ہیں۔ایران ،لبنان اور ترکی بری طرح اس جنگ میں شریک ہیں۔اس طرح کے بم دھماکے کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں اور شامی اور لبنانی عوام اس عالمی جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں''۔