.

عراق :ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کا سربراہ گرفتار

بغداد میں سکیورٹی فورسز کی مختار آرمی کے لیڈر کے خلاف کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سکیورٹی فورسز نے ایران کی حمایت یافتہ انتہا پسند شیعہ ملیشیا کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان سعد معان ابراہیم نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شیعہ جنگجو تنظیم مختار آرمی کے سربراہ واثق البطاط کو بدھ کو دارالحکومت بغداد سے گرفتار کیا تھا۔

واثق البطاط ایک انتہا پسند شیعہ عالم ہیں۔انھوں نے گذشتہ سال ایران کی حمایت سے عراق میں سنی جنگجوؤں کے حملوں کے مقابلے کے لیے مختار آرمی کے نام سے جنگجو تنظیم قائم کی تھی۔اس سے پہلے وہ عراق میں حزب اللہ بریگیڈز کے سربراہ تھے لیکن اس تنظیم کا لبنانی شیعہ عسکری جماعت حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

البطاط نے نومبر میں عراق اور کویت کی سرحد کے نزدیک واقع سعودی عرب کے علاقے کی جانب چھے مارٹر گولے فائر کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ شیعہ مخالف مذہبی فتاویٰ کے جواب میں کیا تھا۔ان فتووں میں ان کے بہ قول اہل تشیع کی توہین کی گئی تھی اور ان کی ہلاکتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

انھوں نے عراق میں مقیم ایرانی حکومت کے مخالف اور جلاوطن مجاہدین خلق کے کیمپ پر بھی گذشتہ ماہ مارٹر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور اس پر مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔مجاہدین خلق کے بغداد کے نزدیک واقع کیمپ لبرٹی پر مارٹر حملے میں تین افراد ہلاک اورپچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔امریکا اور اقوام متحدہ نے اس حملے کی مذمت کی تھی اور عراق سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔