.

پندرہ ہزار جج مصری دستور کے بارے میں ریفرنڈم کی نگرانی کریں گے

ریفرنڈم فارم کی ایک خفیہ مقام پر طباعت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ رواں ماہ [جنوری] کے وسط میں نئے دستور پر ہونے والے عوامی ریفرنڈم کی نگرانی کے لیے پندرہ ہزار جج تعینات کیے جا رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان ایڈووکیٹ نصرالدین شعیشع نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم کے دوران شہری اپنے آبائی حلقوں میں قومی شناختی کارڈ پر نمبر اور اصلی نام کے ساتھ حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریفرنڈم فارم ایک خفیہ مقام پر طباعت کے عمل سے گذر رہے ہیں۔ وقت مقررہ سے قبل انہیں منظرعام پر نہیں لایا جائےگا۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر نصرالدین شعیشع کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کے دوران ووٹ ڈالنے اور ان کی گنتی کے لیے خودکار ریڈنگ کے مشین استعمال نہیں کی جائے گی۔ ووٹ ڈالنے کے لیے سادہ سیاہی استعمال کی جائے گی، جو بوقت ضرورت اور غلطی کی صورت میں مٹائی بھی جا سکے گی۔

خیال رہے کہ قبل ازیں میڈیا پر یہ خبریں آئی تھیں کہ مصری الیکشن کمیشن ریفرنڈم کے دوران ووٹوں کی گنتی کے لیے خود کار الیکٹرانک ریڈنگ مشین استعمال کرنے کا تجربہ کر رہا ہے۔ اس خود کار مشین کے ذریعے کوئی ووٹر صرف ایک ہی مرتبہ اپنا ووٹ کاسٹ کرسکے گا، تاہم فی الحال خود کار ووٹ کاسٹنگ و ریڈنگ آلات استعمال نہیں کیے جا رہے ہیں۔