.

بیروت کے جنوبی علاقے میں کار بم دھماکا، 4 افراد ہلاک، 60 زخمی

حزب اللہ کے ملکیتی 'المنار' ٹیلی ویژن کی عمارت کے نزدیک ایک اور حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے میں کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے لبنانی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ بیروت میں جمعرات کو شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن چینل کی عمارت کے نزدیک ایک مصروف شاہراہ پر بم دھماکا ہوا ہے۔

المنار ٹی وی نے بتایا ہے کہ کار بم دھماکا گنجان آباد علاقے حرت حریق میں ہوا ہے اور اس میں ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں اس کے کسی قائد کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔

العربیہ کے نمائندے نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ لبنانی سکیورٹی فورسز نے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں کاروں میں نصب متعدد بم ناکارہ بنائے ہیں لیکن ان کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاکہ مکینوں میں کوئی خوف وہراس نہ پھیلے۔

لبنانی وزیرخارجہ عدنان منصور نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاربم دھماکا ملک میں جاری دہشت گردی کے حملوں کا حصہ ہے۔انھوں نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ذرائع کا خاتمہ کرے۔

واضح رہے کہ اگست میں بیروت کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے مضبوط مرکز میں ایک کار بم دھماکے میں پچیس افراد ہلاک اور تین سو پینتیس زخمی ہوگئے تھے۔گذشتہ ماہ لبنانی دارالحکومت میں بم دھماکے میں سابق وزیرخزانہ محمد شطح سمیت چھے افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

نومبر میں ایران کے سفارت خانے کے باہر دو کار بم دھماکوں میں ایرانی کلچرل اتاشی سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔القاعدہ سے وابستہ گروپ عبداللہ عزام بریگیڈزنے ان دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ دھمکی دی تھی کہ اگر حزب اللہ نے صدر بشارالاسد کی حمایت میں اپنے جنگجو شام میں بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا تو لبنان میں مزید دھماکے کیے جائیں گے۔