.

القاعدہ سے وابستہ گروپ کا حلب کے بعض حصوں کا محاصرہ

اسلامی جنگجوؤں کی سرحدی دیہات پر یلغار کی تیاری، ڈاکٹروں کی ٹیم کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند گروپ ریاست اسلامی عراق وشام (آئی ایس آئی ایل) نے شام کے شمالی شہر حلب کے بعض علاقوں کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کے جنگجوؤں نے اس محاصرے کو مضبوط کرنے کے بعد قریبی دیہات عتارب وغیرہ پر یلغار کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس امر کا اظہار ''العربیہ'' نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں نے بتایا ہے کہ "آئی ایس آئی ایل" نے شام کے بندرگاہی شہر اللاذقیہ میں ڈاکٹروں کے قائم کردہ ایک موبائل ہسپتال پر حملہ کیا اور سٹاف کو حراست میں لے لیا ہے۔ بتایا گیا ہے یہ ڈاکٹر فرانس میں قائم سرحدوں سے ماورا انسانی خدمت کے لیے سرگرم ڈاکٹروں کی تنظیم سے وابستہ ہیں۔

زیرحراست ڈاکٹروں میں پانچ غیر ملکی ڈاکٹر بھی شامل ہیں جبکہ دوسرا عملہ اس کے علاوہ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے مانیٹرنگ نیٹ ورک اور انسانی حقوق سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ شام کی سرکاری افواج کی شیلنگ سے خامس، حلب۔ درعا اور دمشق میں 49 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

درایں اثناء شام کے اسلامی فرنٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایس آئی ایل کے عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے اعدادو شمار درست پیش نہیں کیے گئے ہیں۔ واضح رہے اسلامی فرنٹ سات اسلام پسند باغی گروپوں کے باہم انضمام سے وجود میں آیا ہے

اس گروپ کے ایک مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس ایل نے توحید گروپ ، جیش اسلام اور جیش الحر کو انتقام کی دھمکی دی ہے۔ '' العربیہ '' کے ساتھ ایک انٹرویو میں شام کے علماء کی انجمن کے سیکرٹری جنرل شیخ مروان القدیری نے کہا کہ'' آئی ایس آئی ایل کا بیان قابل اعتماد نہیں ہے ، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بیان درست ہے تو یہ ایک سنگین غلطی ہو گی۔''

انہوں نے مزید کہا '' آئی ایس آئی ایل کو اپنے بیانات کے حوالے سے منطقی ہونے کی ضرورت ہے، ایک دوسرے گروپ کے لوگوں کے قتل کو قانونی اور جائز سمجھنا درست نہیں ہے۔ '' واضح رہے شامی قومی اتحاد پہلے ہی آئی ایس آئی ایل کو بشار الاسد کی مدد کرنے والا گروپ قرار دے چکا ہے۔ شام کے باغی گروپوں میں تضادات بشارالاسد کی افواج کےلیے سود مند ثابت ہورہے ہیں۔