.

حزب اللہ کے بغیر لبنانی کابینہ نامنظور: اسپیکر لبنانی پارلیمنٹ

صدر اور وزیراعظم میں 25 جنوری تک نئی کابینہ بنانے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور شیعہ امل تحریک کے سربراہ نبیہ بیری نے خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ کے بغیر بننے والی نئی حکومت کو پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ ملے گا اور نہ ہی ایسی حکومت کامیاب ہو سکے گی۔ لبنانی سپیکر کے حوالے سے اس امر کا اظہار معروف عربی اخبار 'الحیات' نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

علاوہ ازیں آزادی و ترقی کے نام سے موجود پارلیمانی گروپ کے رہنما نبیہ بیری اور پروگریسو سوشلسٹ پارٹی کے رکن پارلیمنت ولید جنبلاط نے بھی دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایسی کسی نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیا جائے گا۔

اسی ہفتے کے آغاز پر نبیہ بیری نے ایسی ہر کابینہ کی مخالفت کا عندیہ دیا تھا جو قومی اتفاق رائے کے خلاف تشکیل دی گئی ہو۔ واضح رہے شام میں حزب اللہ کے بشار الاسد رجیم کی طرف سے لڑائی کا حصہ بننے اور لبنان میں حالیہ بم دھماکوں کے باعث سیاسی سطح پر تقسیم میں شدت آ گئی ہے۔ بیری کا مزید کہنا تھا اتفاق رائے کے بغیر بنائی گئی حکومت ملک کے استحکام کے لیے اچھی نہیں ہو گی۔

لبنان میں ان دنوں 25 جنوری سے پہلے 14 رکنی نئی کابینہ کی تشکیل کی کوششیں جاری ہیں۔ نئی کابینہ کی ضرورت پر صدر اور وزیر اعظم کے درمیان پہلے ہی اتفاق کیا جا چکا ہے۔