.

عراقی شہر رمادی میں قبائل اور 'داعش' کے جنگجووں کے درمیان لڑائی

قبائل نے فلوجہ پولیس اسٹیشن کا کنڑول 'داعش' سے واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں عراقی شہر الرمادی میں عراق و شام میں اسلامی حکومت سے موسوم تنظیم 'داعش' کے جنگجووں، مقامی قبائل اور پولیس کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے آغاز کی خبر دی ہے۔ یہ پیش رفت الانبار گورنری کے شہر الفلوجہ پر قبائل کے مغربی سمت سے حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔ قبائل نے فلوجہ میں پولیس ڈائریکٹوریٹ کو 'داعش' کے جنگجووں سے آزاد کرایا تھا۔

الانبار کے قبائل نے رمادی شہر سے 'داعش' کے جنگجووں کو بے دخل کر کے شہر پر مقامی پولیس کی مدد سے کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پوسٹ ویڈیو میں متعدد گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں جن پر فوجی سوار ہیں اور یہ گاڑیاں شہر سے 'داعش' کے جنگجووں کو نکال باہر کرنے کے بعد علاقے میں گشت گر رہی ہیں۔ قبائل نے شہر کا کںڑول دوبارہ قبضے میں لے لیا ہے اور ساتھ ہی پولیس اسٹیشن کا کنڑول بھی حاصل کر لیا ہے۔

مقامی قبائل نے 'داعش' کے خلاف لڑائی کے لئے مسلح بریگیڈ تشکیل دیئے تھے اور مقامی پولیس کے ساتھ ملکر داعش کو الانبار کے مختلف علاقوں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ عراق کی بیداری کانفرنس کے سربراہ الشیخ احمد ابو ریشہ نے ماضی میں اعلان کیا تھا کہ 'داعش' کے خلاف قبائل نے کھلی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ داعش نے الرمادی اور فلوجہ کے مختلف علاقوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔