.

مصری حکومت کا اخوانی کارکنوں پرغزہ سے ٹریننگ لینے کا الزام

حماس نے المنصورہ دھماکوں میں لاجسٹک سپورٹ مہیا کی: وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کے کارکنوں نے سیکیورٹی حکام پرحملوں اور بم دھماکوں کے لیے فلسطینی شہرغزہ سے جنگی تربیت حاصل کی ہے۔ قاہرہ نے اخوان کی ہم خیال فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس پر بھی حملوں کے لیے لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری وزیر داخلہ میجر جنرل محمد ابراہیم نے قاہرہ میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں کے الزام میں حراست میں لیے گئے اخوانی کارکنوں نے مبینہ طور پر اپنے اقبالی بیانات میں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے جنگ کی تربیت حماس کے زیر انتظام فلسطینی شہرغزہ کی پٹی سے حاصل کی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا وہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے دور حکومت میں اخوان المسلمون اور حماس کے کی قیادت میں پائی جانے والی قربت کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اخوانی کارکن کس طرح غزہ کی پٹی میں جا کر حماس کے ملٹری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ سے تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

میجر جنرل ابراہیم نے بتایا کہ سیکیورٹی حکام نے گذشتہ ہفتے منصورہ شہر میں دھماکوں کے ماسٹرمائند کا پتہ چلا لیا ہے۔ اس کے علاوہ دھماکوں میں ملوث سات ملزمان کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جن سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔

وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ "ملک میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون ملوث ہے۔ گذشتہ ہفتے الدقہلیہ گورنری کے المنصورہ شہر میں ہونے والے حملوں میں سولہ افراد کی ہلاکت کا خون اخوانیوں کی گردنوں پر ہے"۔

میجر جنرل محمد ابراہیم کاکہنا تھا کہ پولیس نے المنصورہ دھماکوں میں ملوث عناصر میں سے عماد مرعی محفوظ، یحیٰی سعد الحسینی، عادل محمود اوراحمد محمد عبدالحلیم السید بدوی کو حراست میں لیا ہے۔ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی وارداتوں کے لیے انہوں نے قبطی شہریوں کی دکانوں سے سونا بھی چوری کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے المنصورہ حملے میں ملوث افراد کی ایک ویڈیو فوٹیج بھی دکھائی، جس میں اخوان رہ نماؤں سعد الحسینی اورعادل محمود الیبی کے دو فرزند بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں سیکیورٹی حکام پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی "انصار القدس" نامی تنظیم کے حماس اور اخوان المسلمون کے ساتھ روابط رہے ہیں۔ قاہرہ حکومت تمام دہشت گرد گروپوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔