.

لبنان میں القاعدہ گروپ کے زیرحراست لیڈر کی صحت خراب

بیروت کے نواح میں واقع فوجی اسپتال میں زیرعلاج ،تفتیش روک دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں القاعدہ سے وابستہ گروپ عبداللہ عزام بریگیڈز کے زیرحراست سربراہ ماجد الماجد اس وقت ایک فوجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں ان کی صحت ابتر بتائی گئی ہے۔

لبنانی حکام نے بتایا ہے کہ ماجد الماجد اس وقت بیروت کے نزدیک انتہائی سکیورٹی میں بعبدہ فوجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں اور ان کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر ان سے تفتیش روک دی گئی ہے۔ان کی گرفتاری سے قبل ان کا علاج کرنے والے ایک معالج نے بتایا ہے کہ ''ماجد کے گردے ناکارہ ہوچکے ہیں اور انھیں مسلسل ڈائیلاسز کی ضرورت ہوتی ہے''۔

اس معالج نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انھیں بالکل اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ جس شخص کا علاج کررہے ہیں،وہ ماجد الماجد ہیں۔27 دسمبر کو ان کے اسپتال نے ریڈکراس سے ماجد کو کسی اور اسپتال میں منتقل کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔

لیکن اس دوسرے اسپتال میں پہنچنے سے قبل ہی لبنانی فوج کی انٹیلی جنس سروس کے اہلکاروں نے ایمبولینس کو روکا اور ماجد الماجد کو گرفتار کر لیا تھا۔اس ذریعے نے مزید بتایا کہ اسپتال اور ایمبولینس کی ٹیم بھی اس سے پہلے اس بات سے بالکل آگاہ نہیں تھی کہ ماجد کون ہے۔

سعودی نژاد ماجد الماجد کو 2012ء میں لبنان میں عبداللہ عزام بریگیڈز کا سربراہ بنایا گیا تھا اور اسی تنظیم نے نومبر 2013ء میں بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے باہر دو خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی جس کے نتیجے ایران کے کلچرل اتاشی سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے فکری استاد پروفیسر عبداللہ عزام کے نام پر جنگجو تنظیم 2009ء میں معرض وجود میں آئی تھی اور اس کی لبنان اور جزیرہ نما عرب میں شاخیں بتائی جاتی ہیں۔امریکا نے 2012ء میں اس کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردے دیا تھا۔

ماجد الماجد کی صحت کے حوالے سے تازہ رپورٹ ان کی گرفتاری کے دوروز کے بعد سامنے آئی ہے۔لبنان کے ایک وزیرنے بدھ کو یہ اطلاع دی تھی کہ فوج کی انٹیلی جنس سروسز نے انھیں حراست میں لے لیا ہے لیکن اس حوالے سے لبنانی حکومت کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔البتہ حکام کا کہنا تھا کہ ان کی شناخت سے متعلق ہرقسم کے شک کو دور کرنے کے لیے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کر لیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے ماجد الماجد کی گرفتاری کو سراہا ہے اور بیروت میں ایرانی سفارت خانے نے ان سے دُہرے خودکش حملے کی تفتیش کے سلسلہ میں رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔یادرہے کہ لبنان کی ایک عدالت نے ماجد الماجد کو القاعدہ سے متاثر ایک اور سخت گیر گروہ فتح الاسلام سے تعلق کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔