.

اردنی مسلمان اضحاک رابن اسرائیل پہنچ کر بھی دربدر

یہودی زبان، ثقافت و مذہب کو اپنانے والے نوجوان کا خوب فوجی افسر بننا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آنجہانی اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک رابن کے نام کی مناسبت سے اردنی مسلمان خاندان نے اپنے بیٹے کا نام رکھا جو پہلے اپنے وطن میں اور اب اسرائیل میں بھی دوسرے درجے کا شہری بن کر رہ گیا۔ اس خاندان کو بیٹے کا یہودی نام رکھنے پر جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی۔

تاہم اب باضابطہ طور پر یہودی تسلیم نہ ہو سکنے کے باوجود یہودی مذہب کی پریکٹس کرتا ہے، عبرانی بوتا اور یہودی کلچر میں رنگا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل میں دوسرے عرب اور فلسطینی مسلمانوں کی طرح حالات کے رحم و کرم پر ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صرف دو رکنی خاندان کا اضحاک رابن نامی یہ اچھوتا چشم و چراغ اپنی والدہ کی زبان سے بھی عربی زبان میں گفتگو سننے کا تیار نہیں بلکہ ناپسند کرتا ہے۔

سترہ سالہ متوقع باضابطہ یہودی اضحاک رابن اسرائیلی فوج میں شمولیت کا خواہشمند ہے لیکن ابھی اسے اعتماد اور بھروسے کی منزل پانے سے پہلے اسرائیل کے مزید دسیوں شکوک و شبہات کے امتحان سے گزرنا ہو گا۔ اب اس کا خاندان محض اس پر اور اسکی والدہ پر مشتمل ہے لیکن وہ اپنی والدہ کو بھی عرب ثقافت کی علامات سے دور دیکھنا چاہتا ہے۔

جب اوسلو معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک رابن کے نام پر اس کا نام رکھا گیا تو اردن کی وزارت داخلہ نے اس کی رجسٹریشن اور تحفظ سے معذرت کر لی۔ اس امر کا چرچا ہوا تو آنجہانی اضحاک رابن کی اہلیہ نے اس اردنی خاندان کی اسرائیل منتقلی کی راہ ہموار کرائی۔

لیکن سنہ 2000 میں ان کے انتقال کے بعد سے یہ مستقبل کا یہودی خاندان دربدر ہے۔ اگرچہ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سترہ سالہ اضحاک اپنی سوچ ، اطوار اور ارادوں سے پورا اسرائیلی بن چکا ہے۔

اضحاک رابن اور اس کی ماں اب کسمپرسی اور پر اسراریت کے حالات کی زد میں ہیں۔ 1998 میں جب سے یہ یہودیت کی محبت میں گرفتار خاندان اسرائیل آیا ہے عارضی رہائش میں مقیم ہے۔ اس رہائش ک اجازت نامہ بھی کسی وقت منسوخ ہو سکتا ہے۔ لیکن سترہ سالہ جوشیلے نوجوان کیلیے رہائش سے زیادہ اہم اس کا اسرائیلی فوج کا افسر بننا ہے، تاہم ہنوز دلی دور است۔