.

لبنانی فوج کے زیر حراست القاعدہ کمانڈر کا انتقال

عبداللہ عزام بریگیڈ کے مبینہ سربراہ ماجد الماجد بدھ کو گرفتار ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں زیر حراست لیے گئے القاعدہ سے منسلک گروپ عبداللہ عزام بریگیڈ کے مبینہ سربراہ ماجد الماجد کا لبنان کے فوجی ہسپتال میں ہفتے کے روز انتقال ہو گیا ہے ۔ ماجد الماجد کو جمعہ کے روز کمزور صحت کی وجہ سے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

تاہم ہفتے کے روز لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے ماجد الماجد کی موت کی خبر جاری کی ہے۔ فوجی حکام نے بھی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ ماجد الماجد کو ماہ نومبر میں بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر دھماکے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ واضح رہے اس دھماکے میں 25 لوگ مارے گئے تھے۔

ماجد الماجد کی گرفتاری کی خبر بدھ کے روز لبنان کے فوجی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے سامنے آئی تھی تاہم کوئی تفصیل نہیں دی گئی تھی کہ گرفتاری کس جگہ سے اور کب عمل میں لائی گئی ہے۔

گرفتاری سے پہلے ماجدالماجد کے علاج معالجہ سے متعلقہ طبی ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ماجد الماجد کو گردوں کا عارضہ تھا اور ڈائیلسس چل رہا تھا۔ تاہم ان معالجین کو علم نہ تھا کہ یہ کون شخص ہے جس کا یہ علاج کر رہے ہیں۔ ماہ دسمبر کی 27 تاریخ کو ہسپتال نے ریڈ کراس سے رابطہ کیا کہ اس مریض کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے کہ مریض کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا جاتا لبنانی فوج نے ایمبولینس کو روک لیا کر گرفتار کر لیا۔

تفتیش موخر کی گئی ہے۔ البتہ سخت پہرے میں فوجی ہسپتال میں رکھا گیا ہے ۔ ایک اسلامی ویب سائٹ کے مطابق ماجد الماجد کا نام اس وقت نمایاں ہو کر سامنے آیا جب 2012 میں عبداللہ عزام گروپ کی سربراہی ملی۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کسی شک ے بچنے کیلیے ڈی این اے ٹیسٹ لیا گیا ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ یہ وہی ماجد الماجد ہے جو عبداللہ عزام گروپ کا سربراہ تھا یا کوئی اور ہے۔

اس سے پہلے سعودی عرب نے اس گرفتاری کا خیر مقدم کیا تھا جبکہ ایران نے اس تک رسائی دینے کیلیے لیے لبنانی حکومت سے کہا تھا۔