.

مصری مظاہرین کی حمایت پر احتجاج، قطری سفیر کی دفترِ خارجہ طلبی

مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر دوحہ کی مذمت مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری حکومت نے قطر کی جانب سے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی مظاہرین کی حمایت پر دوحہ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے ہفتے کے روز میڈیا کو بتایا کہ قاہرہ میں متعین قطری سفیر سیف بن مقدم ابو عینین کو وزارت خارجہ کے دفتر میں بلا کر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ قطری حکومت مصر میں شر پسندوں کی حمایت کرکے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ قاہرہ کے لیے کسی دوسرے ملک کی یہ پالیسی قابل قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے قطری سفیر کو طلب کرکے بتا دیا ہے کہ قاہرہ اپنے اندرونی معاملات میں کسی ملک کی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔

قبل ازیں جمعہ کو قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی"کونا" نے وزارت خارجہ کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں محکمہ خارجہ نے مصر میں جاری عوامی مظاہروں کی حمایت کی تھی۔ قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا معزول صدر ڈاکٹر مرسی کی حمایت میں ریلیاں نکالنے والوں کو قتل کرنے کا جواز حاصل کی کوشش ہے۔

قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ کسی قومی سیاسی جماعت کو دہشت گرد قرار دینا اور پُرامن احتجاجی مظاہروں کو دہشت گردی کی کارروائیوں سے تعبیر کرنا قابل مذمت اقدامات ہیں۔ اس سے نہ تو پرامن احتجاج رک سکتا ہے اور نہ ہی یہ کسی فریق کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

دوحہ وزارت خارجہ نے قاہرہ کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن مظاہرین پر گولیاں چلانے کے بجائے ان سے مذاکرات کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر مصرکو اپنا دشمن نہیں سمجھتا بلکہ یہ ہمارا دوست اور برادرملک ہے۔ اس کا امن واستحکام قطر ہی کی طرح عزیز ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو مصر میں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں پر فائرنگ کے دوران کم سے کم سترہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ مظاہروں کا اہتمام معزول صدر ڈاکٹر مرسی کی حامی دینی قوتوں نے کر رکھا تھا۔

مصری پولیس کے مطابق تین جولائی کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد پرتشدد واقعات میں کم سے کم 1500 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں اکثریت اخوان المسلمون کے کارکنوں کی بتائی جاتی ہے۔ تاہم ان میں چار سو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔