.

مصر: احتجاج، ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی

کئی مرنے والے مظاہرین کی موت سر پر گولی لگنے سے ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون کے احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 13 ہو گئی ہے جبکہ جمعہ کے روز کم از کم 57 افراد کے زخمی ہونے کی سرکارری طورپر تصدیق کی گئی ہے۔ جمعہ کے روز احتجاج کا دائرہ قاہرہ، اسماعیلہ اور سکندریہ سمیت پورے مصر میں پھیلا ہوا تھا۔

مصری وزارت صحت کے حکام کے مطابق ان ہلاک ہونے والے مظاہرین میں متعدد کو گولی سر یا جسم کے بالائی حصے میں لگی ہے۔ اسماعیلیہ میں ایک شخص جمعہ کے بعد مظاہرہ شروع ہوتے ہی سکیورٹی فورسز کی گولی کا نشانہ بن گیا، اخوان المسلمون کے حامیوں نے اس مظاہرے کا آغاز مقامی مسجد سے نماز جمعہ کے بعد کیا تھا۔

مصری دارالحکومت کے جنوب مغرب میں دورافتادہ صوبے فایوم میں وزارت صحت کے حکام کے مطابق ایک کارکن سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ احتجاج کا یہ دائرہ مصر کے گنجان اباد شہروں اور قصبات میں یکساں پھیلا رہا۔ جسے کہیں سکیورٹی فورسز کے آنسو گیس اور کہیں فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران مجموعی طور پر مرنے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ بعض افراد زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتالوں میں جاں بحق ہو ئے۔

نماز جمعہ کے بعد آبادیوں کے اندر تک احتجاج جاری رہا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتژر کرنے کیلیے پانی تیز کا چھڑکاو کیا اور آنسو گیس کا استمال کیا۔ جبکہ مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر پتھراو کیا اور مختلف جگہوں پر ٹائر جلا ئے۔

مصر میں اس طرح کے مناظر 3 جولائی کے بعد سے سڑکوں اور گلی محلوں میں عام طور دیکھے جا رہے ہیں۔ کہ فوج کے ہاتھوں مرسی کی برطرفی کے بعد مرسی کے حامی مسلسل سڑکوں پر ہیں۔

ان مظاروں کے دوران اخوان کے سینکڑوں حامی اور کارکن سکیورٹی کے ساتھ تصادم میں مارے جا چکے ہیں ہزاروں جیلوں میں بند کیے گئے ہیں۔ ان بڑھی ہوئِی ہلاکتوں کے بعد اخوان کے حامیوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر لی ہے اور اب خواتین یا طلبہ مظاہروں میں زیادہ فعال ہیں۔

اخوان کے کارکن 8 جنوری کو معزول صدر مرسی کی عدالت میں امکانی پیشی کے موقع پر بھی احجاج کاارادہ رکھتے ہیں۔ جنہیں عبوری حکومت نے قتل کے مقدمات میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماہ جنوری اخوان کے احتجاج کے حوالے سے اس لیے بھی اہم ہے کہ اسی ماہ 14 اور 15 تاریخ کو نئے مسودہ دستور پر عبوری حکومت ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کے بعد صدارتی اور پارلیمانی انتخابات متوقع ہیں۔

جمعہ کے روز ہونے والے بم دھماکوں میں مصری فوج اور پولیس کے قافلوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ واقعات شمالی سینائی میں پیش آئے جہاں القاعدہ سے منسلک گروپ سرگرم ہیں۔ سکیورٹ حکام کے مطابق چار اہلکار زخمی ہوئےہیں۔

ان دھماکوں میں سے ایک سڑک کنارے دھماکہ تھا یہ شیخ زوید نامی قصبے کے قریب ہوا۔ یہ علاقہ غزہ کی پٹی کے قریب ہے۔ جہاں حماس کی حکومت ہے۔