.

"داعش" نے جنوبی لبنان میں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی

تنظیم نے حزب اللہ کے خلاف مزید کارروائیوں کی دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم القاعدہ کی شدت پسند تنظیم" دولت شام وعراق" نے گذشتہ جمعرات کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے گڑھ میں کئے جانے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق "داعش" کی ایک ذیلی تنظیم اعتصام فاؤنڈیشن نے ٹیوٹر پر دعوی کیا ہے کہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مرکز میں دھماکے اس کے جنگجوؤں نے کیے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "داعش" کے مجاہدین رافضی شیطانی پارٹی [حزب اللہ] کا سیکیورٹی حصار توڑنے کے بعد جنوبی بیروت میں اس کے گڑھ کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ پہلی اور آخری کارروائی نہیں بلکہ لڑائی کا نقطہ آغاز ہے۔

القاعدہ گروپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی بیروت میں دھماکے اس بڑی کارروائی کا ایک چھوٹا سا جزو ہیں جس کا بڑا حصہ ابھی باقی ہے۔ داعش کے کارکن مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے بھاری حملے کرتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ القاعدہ کی بغل بچہ سمجھی جانے والی تنظیم "داعش" شام اور عراق میں پچھلے کئی سال سے سرگرم بتائی جاتی ہے۔ یہ تنظیم شام میں مبینہ طور پر ایک جانب بشار الاسد کےخلاف بر سرپیکار ہے اور دوسری جانب باغیوں کے خلاف بھی صف آرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین اس تنظیم کی شام کے محاذ میں موجودگی کو انقلابی تحریک کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس تنظیم نے شورش زدہ صوبے الانبار کے وسطی شہر الفلوجہ کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ داعش اور فلوجہ کے قبائلی جنگجوؤں کے درمیان پچھلے پانچ روز سے لڑائی جا ر ہے، جس میں دونوں طرف سے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔