.

انبار میں عراقی فورسز پر قاتلانہ حملے کی نئی ویڈیو جاری

پولیس اسٹیشن میں داعش کمانڈر کی تصویر پر نئی بحث شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شورش زدہ سنی اکثریتی صوبہ "الانبار" میں مسلح عناصر کے ہاتھوں ایک فوجی قافلے پرقاتلانہ حملے کی ایک تازہ ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شدت پسند تنظیم "داعش" کےایک سرکردہ کمانڈر شاکر وھیب کی ایک تصویربھی گردش میں ہے۔ کمانڈر وہیب کو اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ الانبار کے ایک پولیس سینٹر میں نہایت اطمینان کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق میں سرگرم القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند گروپ"دولہ اسلامیہ عراق وشام" [داعش] کی انبار صوبے میں کھلے عام کارروائیوں سے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ صوبے میں وزیر اعظم نوری المالکی کے سیکیورٹی اداروں کا کنٹرول ختم ہوچکا ہے۔ بات صرف الانبار تک محدود نہیں رہی بلکہ دوسرے بڑے شہر فلوجہ میں بھی مقامی قبائل اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے۔ داعش نے شہرکے بیشتر اندرونی حصوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کل ہفتے کے روز صوبہ الانبار کے شہر الرمادی اور فلوجہ میں شدت پسندوں کے حملوں میں فرسٹ لیفٹیننٹ کےعہدے کے سات افسر ہلاک ہوچکے ہیں۔ عراقی وزارت داخلہ کے ماتحت ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ فلوجہ میں فوج کی معیت باغیوں سے لڑنے والے مقامی قبائل کے دو جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

قبل ازیں مقامی قبائل نے فوج کی مدد سے فلوجہ کے بعض علاقوں پرقبضہ کرلیا تھا تاہم "داعش" نے شہر کے ایک مرکزی پولیس اسٹیشن کونذرآتش کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دوسری اہم تنصیبات پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر اسامہ النجیفی نے شورش زدہ صوبے الانبار میں فوری انسانی امداد کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔ فلوجہ کے ایک مقامی شیعہ مذہبی رہنما الشیخ احمد ابر ریشہ کا کہنا ہے کہ داعش اور قبائلی جنگجوؤں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ فوج، پولیس اور قبائلی کی مشترکہ کارروائی کے باوجود القاعدہ عناصر کا پلڑہ بھاری دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ مشرقی فلوجہ میں فوج کے ایک کیمپ پر قبائل کے جنگجوؤں نے بھی دھاوا بول دیا ہے۔

صوبہ الانبار کے ایک پولیس اسٹیشن میں داعش کے مرکزی کمانڈر شاکر وھیب کی ایک تصویر بھی سماجی میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ کمانڈر وھیب کو ایک کمرے میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کمانڈر وھیب الانبار کے ایک پولیس اسٹیشن میں سیکیورٹی اہلکاروں کو مار بھگانے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا ہے تاہم بعض دوسرے ذرائع اس تصویر کے اصلی ہونے کی نفی کر رہے ہیں۔

عراق میں سیاسی سطح پر الانبار، فلوجہ اور الرمادی شہروں میں جاری شورش کو فوج اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ عراقی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین قانون ساز کونسل کے گروپ "اتحاد برائے اصلاحات" کا کہنا ہے کہ انبار اور فلوجہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ تسلیم نہ کیا وہ پیش آئند پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کردیں گے۔