.

شام میں القاعدہ اور باغی جنگجوگروپوں کے درمیان شدید لڑائی

ریاست اسلامی عراق وشام نے حلب اور ادلب میں 24 باغیوں کو ہلاک کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجو گروپ اب خود ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہوگئے ہیں اور اتوار کو القاعدہ سے وابستہ گروپ ریاست اسلامی عراق وشام کے جنگجوؤں اور اعتدال پسند باغی گروپوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

القاعدہ سے وابستہ اسلامی عسکریت پسند (آئی ایس آئی ایل) اور شام کے مقامی باغی گروپ شمالی صوبوں ادلب اور حلب میں ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں کو ہتھیانے کے لیے باہم برسرپیکار ہیں۔اب ان کے درمیان الرقہ کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے طبقہ میں ایک نئے محاذ پر لڑائی ہورہی ہے۔

اس علاقے میں آئی ایس آئی ایل کے جہادیوں کا قبضہ اور زور ہے اور انھوں نے اپنے متحارب چوبیس باغیوں کو ہلاک کردیا ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ہفتے کے روز شمالی صوبہ حلب کے ایک گاؤں تل رفعت کے نزدیک ان جہادیوں نے ایک حملے میں دس باغی جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔ایک اور شمالی قصبے حریتان میں آئی ایس آئی ایل کے کار بم حملے میں پانچ باغی جنگجو مارے گئے تھے۔

شام کے باغی جنگجو گروپوں پر مشتمل اسلامی محاذ میں شامل لواء التوحید بریگیڈز نے اپنے فیس بُک صفحے پر اطلاع دی ہے کہ کار بم حملے میں اس کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔شمال مغربی صوبہ ادلب میں بھی القاعدہ کے جہادیوں اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں۔اس صوبے کے ایک علاقے جبل الزاویہ میں آئی ایس آئی ایل نے ایک حملے میں چار باغیوں کو ہلاک کردیا اور ایک قصبے حرم میں پانچ اور باغیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

شامی گروپ ریاست اسلامی عراق وشام پر صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی جنگ کو ہائی جیک کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔فریقین سے تعلق رکھنے والے باغیوں کے درمیان آئی ایس آئی ایل کے زیرانتظام چیک پوائنٹس اور اڈوں پر باغی جنگجوؤں کے حملوں کے بعد حالیہ شدید لڑائی شروع ہوئی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے پر انسانی حقوق پامال کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

آئی ایس آئی ایل نے ہفتے کے روز ایک آڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں دوسرے باغیوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ جہادیوں پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ بند کردیں یا پھر وہ حلب کے اگلے محاذوں سے پیچھے ہٹ جائیں اور بشارالاسد کی وفادار فورسز کو اندر آنے دیں۔

درایں اثناء شامی کارکنان کے حوالے سے یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع دو شمالی قصبوں میں النصرۃ محاذ اور احرارالشام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے آئی ایس آئی ایل کے جہادیوں پر شدید فائرنگ کی ہے جس کے بعد انھوں نے وہاں اپنے ٹھکانے خالی کردیےہیں اور ان دونوں تنظیموں نے ان پر قبضہ کر لیا ہے۔

فراس احمد نامی ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ریاست اسلامی کے جنگجوؤں کا لڑائی کے بغیر ہی انخلاء جاری ہے اور وہ اپنے بھاری ہتھیار اٹھائے بظاہر حلب کی جانب جارہے ہیں۔انھوں نے ادلب میں واقع اپنے ایک مضبوط مرکز دانا کو بھی خالی کردیا ہے۔شامی حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ القاعدہ تنظیم کا یہ اقدام کسی ڈیل کا نتیجہ ہوسکتا ہے تا کہ باغیوں کی باہمی لڑائی سے بچا جاسکے اور تمام جنگی صلاحیتیں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف استعمال کی جاسکیں۔

آئی ایس آئی ایل کو شامی حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی جنگ کو ہائی جیک کرنے کے علاوہ اس کو سبوتاژ کرنے کے بھی الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔شام کے منحرف فوجیوں اور باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے سیکرٹری جنرل کیپٹن عمار الواوی کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایل گینگسٹروں کا گروپ ہے جو صدر بشارالاسد کی حکومت ،ایران اور عراق کی پیروی کررہی ہے۔انھوں نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کا واحد مقصد شامی انقلاب کو ہائی جیک کرنا ہے۔

واضح رہے کہ القاعدہ سے وابستہ یہ جنگجو گروپ شام اور عراق دونوں ممالک میں حکومتی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہے۔آئی ایس آئی ایل نے عراق کے مغربی شہروں فلوجہ اور رمادی میں گذشتہ ایک ہفتے سے سرکاری عمارات اور تھانوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے اور وہاں اس جنگجو تنظیم کی مقامی قبائل اور عراقی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہورہی ہے۔

آئی ایس آئی ایل نے اسی ہفتے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مضبوط مرکز کے نزدیک ایک خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔