.

بغداد میں بم دھماکے،20 افراد ہلاک ،50 زخمی

عراقی دارالحکومت کے شیعہ آبادی والے علاقوں میں پے درپے بم دھماکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد کے شہری اور تجارتی علاقوں میں کار بم حملوں اور سڑک کے کنارے نصب بموں کے دھماکوں میں بیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد میں اتوار کو تباہ کن بم حملہ شیعہ آبادی والے شمالی علاقے شعب میں کیا گیا ہے جہاں باردو سے لدی دوکاریں دھماکوں سے اڑا دی گئیں۔اس حملے میں دس افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہوئے ہیں۔

شیعہ اکثریتی آبادی والے مشرقی علاقے صدر سٹی میں ایک اور کار بم دھماکا ہوا۔اس واقعے میں پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے۔وسطی علاقے باب المعظم میں ایک اور دھماکے میں تین افراد مارے گئے ہیں اور چھے زخمی ہوئے ہیں۔شہر میں دو اور بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔

میڈیکل حکام نے بغداد میں بم دھماکوں میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔تاہم فوری طورپر کسی گروپ نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں۔اہل سنت سے تعلق رکھنے والے مزاحمت کاروں نے مبینہ طور پر عراقی سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کردیے ہیں اور وہ شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کے حامیوں کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

عراقی دارالحکومت میں یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان مغربی صوبے الانبار میں شدید لڑائی جاری ہے۔القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق وشام نے صوبے کے دوشہروں رمادی اور فلوجہ میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اب عراقی فورسز مقامی قبائل کی مدد سے ان شہروں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

درایں اثناء عراق میں تشدد کے ایک اور واقعے میں مسلح افراد نے بغداد اور شمالی شہر کرکوک کے درمیان ایک جعلی چیک پوائنٹ قائم کرکے چھے ڈرائیوروں کو قتل کردیا ہے۔یہ واقعہ بغداد سے نوے کلومیٹر شمال میں واقع علاقے اضیم کے نزدیک ہفتے کی رات پیش آیا تھا۔