.

شام : سرکاری اور باغی افواج میں ایک ضلع میں جنگ بندی

متحارب فواج علاقہ خالی کریں گی، شہر چھوڑ جانے والے واپس آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی بشارالاسد رجیم اور باغیوں کے درمیان دارالحکومت دمشق کے شمالی ضلعے میں ایک سال پر پھیلی بمباری اور تباہی کے بعد جنگ بندی کا عارضی معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ دنوں سے بشار رجیم اور آزاد شامی فوج کے درمیان مذاکرات کاروں کے ذریعے بات چیت ہو رہی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دوطرفہ معاہدے کے بعد متحارب افواج میں سیز فائر ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں اپوزیشن کی مقامی کونسل کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔

معاہدے کے مطابق فریقین نے علاقے سے اپنی افواج نکالنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ بشار رجیم کی افواج کی پورے بارزخ سے واپسی کے بعد تباہ شدہ گلیوں اور رستوں کی صفائی کر کے سڑکیں کھول دی جائیں گی۔ واضح رہے بارزخ کا بیشتر حصہ بشار رجیم کی تقریبا ایک سال تک روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہو چکا ہے۔

ایک سرگرم کارکن کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی اس دوطرفہ معاہدہ پر باضابطہ عمل نہیں ہوا ہے تاہم پچھلے تین دنوں سے لڑائی میں کمی آچکی ہے۔ معاہدے کی ایک شق میں جنگ زدہ بارزخ سے نقل مکانی کر جانے والے شہریوں کیلیے دو ہفتوں کے اندر اندر واپسی کی راہ ہموار کی جائے گی۔ اس عرصے میں بنیادی شہری سہولیات بحال کر دی جائیں گی۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق آزاد شامی فوج اور عسکریت پسند گروپ النصرہ فرنٹ کے دوسو ارکان نے اس معاہدے کو ممکن بنانے کیلیے خود کو بشار رجیم کے حوالے کرد یا ہے، تاہم ابو عمار نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے۔