.

صوبہ الانبار کے قبائل القاعدہ کے خلاف مدد دیں:نوری المالکی

القاعدہ کی فلوجہ میں گرفت مضبوط، عراقی فضائیہ کی بڑے حملے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے فلوجہ کے قبائل اور عام شہریوں سے القاعدہ کے خلاف مدد طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائل دہشت گردوں کو شہر سے نکال باہر کریں تاکہ علاقے میں مسلح تصادم کا خطرہ نہ رہے۔ نوری المالکی نے اس امر کا مطالبہ سرکاری ٹی وی کے ذریعے کیا ہے۔

دریں اثنا عراقی حکومت کے ذمہ داروں نے مغربی صوبے انبار میں قبائلی زعماء سے ملاقاتیں کر کے انہیں رمادی اور فلوجہ میں القاعدہ سے وابستہ گروپ آئی ایس آئی ایل کا کنٹرول ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔ یہ شہر جغرافیائی اعتبار سے بھی حساس سمجھے جاتے ہیں کہ دونوں شہر دریائے فرات سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایک روز قبل القاعدہ کو نشانہ بنانے کے لیے حکومت کے فوجی طیاروں نے صوبہ انبار کے ایک شہر پر بمباری کرکے 25 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق مقامی حکام سمجھتے ہیں کہ القاعدہ سے منسلک گروپ نے حالیہ مہینوں کے دوران صوبہ انبار پر بتدریج اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق اتوار کو ہونے والے فضائی حملوں کے بعد عراقی فضائیہ صوبہ انبار کے سنی اکثریت کے شہروں پر ایک بڑے اور بھر پور فضائی حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس بڑے فضائی حملے کا مقصد فلوجہ کا کنٹرول واپس لینا ہے۔

الانبار کی صوبائی کونسل نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ آئی ایس آئی ایل نے نے فلوجہ کو اپنی مکمل گرفت میں لے لیا ہے۔ القاعدہ سے وابستہ گروپ نے حالیہ دنوں پولیس تھانوں پر حملے کیے تھے آج کل یہ گروپ فلوجہ میں پولیس کی گاڑیاں استعمال کر رہا ہے۔