.

کینیڈین شیعہ کو مصر میں داخلے سے روک دیا گیا

کینیڈا کا شہری عراق کے راستے زیارتوں کیلیے قاہرہ اترا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے کینیڈا کی شہریت رکھنے والے شیعہ مسلمان کو مصر میں لینڈینگ کے بعد ائیر پورٹ پر ہی روک دیا ہے۔ مذکورہ شیعہ مبینہ طور پر زیارتوں کی غرض سے عراق کے راستے مصر اترا تھا تا کہ خطے میں زیارتوں کی تکمیل کر لے۔

ائیر پورٹ سکیورٹی فورس کے ذرائع کے مطابق شیعہ مسلمان جس کی عمر 61 سال بتائی گئی ہے کو مصری سکیورٹی حکام کے حکم پر ائیر پورٹ سکیورٹی نے ائیر پورٹ سے باہر جانے سے روکا ہے۔

بالعموم کینیڈین شہریت کے حامل افراد کو اس طرح نہیں روکا جاتا ہے اور کینڈین شہری ائیر پورٹ سے مصری ویزا حاصل کر لیتے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے فی الحال اس معاملے کی مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ البتہ اس امر کا امکان ہے کینیڈین شہری کو واپس ڈیپورٹ کر دیا جائے گا۔

کینیڈا کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان جان بئیرڈ نے اس بارے میں کہا ہے کہ اس واقعے تفصیلات جمع کی جارہی ہیں اور جلد اس پر اپنا موقف سامنے لایا جائے گا۔

واضح رہے مصر سنی اکثریت کا ملک ہے اور اس کو شیعہ اقلیت کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی مذہبی آزادیوں سے متعلق رپورٹ 2012 میں بھی یہ شکایت سامنے آئی تھی کہ مصر میں شیعوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

گزشتہ سال ایک مصرکے ایک سلفی ہجوم نے چار شیعہ مسلمانوں کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ سلفی مسلمان آجکل فوج کی سرپرستی میں قائم عبوری حکومت کے ساتھ ہیں۔