.

'انقلابی تحریک دبانے کے لیے "داعش" ایران، شام نے خود تیار کی'

"داعش" نے دین اور جہاد دونوں کو بدنام کیا: سعودی پروفیسر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں عسکری کارروائیوں سے "شہرت" پانے والی القاعدہ کی ذیلی تنظیم "امارت اسلامیہ عراق وشام" المعروف "داعش" ان دنوں عرب ذرائع ابلاغ کا بھی ایک بڑا موضوع ہے۔ سعودی عرب کے ایک ممتاز عالم دین ڈاکٹرعبدالعزیز الفوزان کا کہنا ہے کہ داعش، ایران اور شام کے انٹیلی جنس اداروں کی کارستانی ہے جس کا مقصد شام میں جاری عوامی بغاوت کی تحریک کو کمزور کرنا ہے۔

العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عالم دین کا کہنا تھا کہ عراق کے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی "داعش" کی بیخ کنی کی آڑ میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کا قتل عام کرتے ہوئے بد ترین جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

علامہ الفوزان کا کہنا تھا کہ "داعش" میڈیا پروپیگنڈے اور اپنے مذہبی نعروں کے ذریعے مخلص اور شریف النفس مسلمانوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تنظیم میں ایسے لوگ پھنس جاتے ہیں جنہیں اس کی اصلیت کا علم نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ دین اور جہاد دونوں کو بدنام کرنے کے لیے دشمن کا ایک ایجنٹ گروپ ہے۔

الشیخ الفوزان نے کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا میں دین اور وطن کے لیے جہاد کرنے کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ یہ تنظیم ان نوجوانوں کو شام میں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ شامی باغیوں کے زیرانتظام علاقوں میں بیرونی امداد کے ذریعے شورش پھیلا کر صدر بشارلاسد کی حامی فوج اور ملیشیا کو تقویت پہنچائی جا رہی ہے۔

سعودی عالم دین نے مسلمان نوجوانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ "داعش" جیسے مفاد پرست اور قاتل گروپوں کے چنگل میں نہ آئیں، کیونکہ یہ لوگ دین اور مذہب کی آڑ میں دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔