.

امریکا القاعدہ کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے عراق کو جلداسلحہ دے گا

الانبار میں لڑائی کے دوران القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے نائب کمان دار کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق کے شورش زدہ صوبے الانبار میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کو جنگ میں مدد دینے کے لیے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی فروخت کا عمل تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے واشنگٹن میں نیوزبریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ امریکا عراق کو اس موسم بہار کے دوران ہل فائر میزائلوں کی اضافی کھیپ مہیا کرے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے عراق کو آیندہ ہفتوں کے دوران القاعدہ سے وابستہ گروپ کے جنگجوؤں کا سراغ لگانے اور فضائی نگرانی کے لیے دس بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے سکین ایگل دے گا۔ان کے علاوہ اسی سال عراق کو فضائی نگرانی کے لیے اڑتالیس بغیر پائلٹ جاسوس طیارے دیے جائیں گے۔

درایں اثناء عراق میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق وشام (آئی ایس آئی ایل) کا نائب کمان دار شورش زدہ صوبے الانبار میں سرکاری فوج اور قبائلی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا ہے۔

بغداد میں العربیہ نیوزچینل کے نمائندے نے الانبار میں لڑائی میں ابو عبدالرحمان البلاوی کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے لیکن آئی ایس آئی ایل نے اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔الانبار میں گذشتہ تین روز میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور عراقی فورسز اور ان کے اتحادی مقامی قبائلی جنگجوؤں کے درمیان خونریز لڑائی میں دوسو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

قبل ازیں عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے فلوجہ کے مکینوں اور قبائل سے کہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے بھرپور حملے سے بچنے کے لیے ''دہشت گردوں'' کو نکال باہر کریں۔عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے سکیورٹی فورسز کو فلوجہ کے رہائشی علاقوں کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔

عراقی فورسز اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں کے درمیان سوموار کو رمادی کے شمال ،شمال مشرق اور جنوب اور فلوجہ کے مشرق میں واقع علاقوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔عراقی فوج نے فلوجہ کا محاصرہ کر لیا ہے اور وہ شہر پر جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کررہی ہے۔

القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق وشام نے گذشتہ ہفتے صوبے کے شہر فلوجہ میں مکمل اور صوبائی دارالحکومت رمادی کے بیشتر حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔اب عراقی فورسز مقامی قبائل کی مدد سے ان شہروں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کررہی ہیں۔فلوجہ میں لڑائی کے بعد بیسیوں خاندان اپنا گھربار چھوڑ کر نزدیک واقع قصبوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

فلوجہ کے مکینوں نے بتایاہے کہ شہر کو دارالحکومت بغداد سے ملانے والی شاہراہ پر القاعدہ کے جنگجوؤں اور عراقی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔الانبار میں عراقی فوج کی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رشید فلیح نے سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگجوؤں کو فلوجہ اور رمادی کے علاقوں سے نکال باہر کرنے کے لیے دوسے تین دن درکار ہوں گے۔

ادھر بغداد کے نواح میں واقع قصبے ابو غریب میں تیزرفتار کار میں سوار جنگجوؤں نے فوج کے ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔