.

اخوان نے انقلابی گارڈز بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی:سابق القاعدہ رکن

خیرت الشاطرنیشنل ڈیفنس کالج بنانا اور وہاں 50 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینا چاہتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے منظم سیاسی ومذہبی قوت اور اب حکومت کے عتاب کا شکار جماعت اخوان المسلمون کے نائب مرشدعام خیرت الشاطر نے ایران کے ایلیٹ فوجی یونٹ کے طرز پر ''انقلابی گارڈ'' کی تشکیل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اس بات کا انکشاف القاعدہ کے ایک سابق رکن محمد توفیق نے مصر کے ایک نجی ٹی وی چینل المحور کے ساتھ انٹرویو میں کیا ہے۔انھوں نے پہلی مرتبہ یہ منکشف کیا ہے کہ اخوان المسلمون اسلام پسند نوجوانوں کو تربیت دے کر پاسداران انقلاب ایران کے طرز پر مصری فوج سے الگ تھلگ ایک فوجی یونٹ تشکیل دینا چاہتی تھی۔

ان صاحب کے بہ قول خیرت الشاطر نے ایک نیشنل ڈیفنس کالج کے قیام اوروہاں پچاس ہزار نوجوانوں کو بھرتی کرکے تربیت دینے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ان میں سے تیس ہزار کو اسلامی تحریکوں سے لیا جانا تھا اور بیس ہزار نوجوان القاعدہ سے بھرتی کیے جانے تھے۔

مکمل وفاداری

القاعدہ کے اس سابق رکن نے اپنے انٹرویو میں حیرت افزا انکشافات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''اس کالج میں ہر چھے ماہ کے بعد نئے گریجوایٹس تربیت کے لیے آتے اور اس طرح وہ ایرانی پاسداران انقلاب کی طرح مصری فوج سے الگ ایک فورس بن جاتے اور وہ صدر کے مکمل وفادار ہوتے''۔

اب یہ تو معلوم نہیں کہ اخوان کے نائب مرشد عام خیرت الشاطر فی الواقع مصری نوجوانوں پر مشتمل ایک الگ تھلگ فورس تشکیل دینا چاہتے تھے اور ان کے القاعدہ کے سربراہ سے بھِی نوجوانوں کی بھرتی کے لیے روابط تھے یا نہیں لیکن القاعدہ کے اس سابق رکن کے یہ انکشافات اخوان المسلمون کو مصری حکومت اور عدالت کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قراردینے کے فیصلے کا حصہ ہی معلوم دیتے ہیں۔اس طرح کے تائیدی بیانات کا مقصد دراصل مصری حکومت کے اقدام کو جائز ثابت کرنا ہے۔

اخوان المسلمون نے فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد ملک میں ہونے والے تمام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔جون 2012ء میں اس کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی مصری تاریخ کے پہلے جمہوری صدر بن گئے تھے لیکن طاقتور مسلح افواج نے جولائی 2013ء میں ان کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کو جواز بنا کر انھیں چلتا کیا تھا اور اب وہ پابند سلاسل ہیں۔

ڈاکٹر محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر کی سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے جس کے دوران کم سے کم تین ہزار افراد مارے گئے ہیں اور ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔عبوری حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز نے اخوان کے مرشدعام محمد بدیع اور نائب مرشد عام خیرت الشاطر سمیت جماعت کی قریباً تمام اعلیٰ قیادت کو گرفتار کر لیا تھا اور اب ان کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔