.

دمشق میں فلسطینی مہاجر کیمپ میں بھوک اور قحط کے ڈیرے

عالمی سفارتی مساعی محصورین کے مسائل کے حل میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق میں فلسطینیوں کے ایک بڑے مہاجر کیمپ یرموک میں محصور ہزاروں افراد بالخصوص بچے بھوک ، سردی، امراض اور گولہ باری کے نتیجے میں روزمرہ کی بنیاد پر سسک سسک کر مرر ہے ہیں۔

کیمپ میں محصور بچوں کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ اشیائے خورو نوش کی سخت قلت ہے اور جو چیزیں دستیاب ہیں وہ اس قدر مہنگی ہو چکی ہیں کہ غریب فلسطینی مہاجرین اور دوسرے شہریوں کے لیے ان کی خریداری ناممکن ہو چکی ہے

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بشار الاسد کی حامی فورسز نے گذشتہ جولائی سے یرموک کیمپ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ مقامی شہریوں کا احتجاج اور عالمی سفارتی مساعی بھی محاصرہ ختم کرانے میں ناکام رہی ہیں۔ کیمپ میں خوراک، پانی اور ادویہ کا قحط ہے ہی بجلی بھی کئی ماہ سے بند ہے۔

مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ایک کلو گرام چاول 42 ڈالر یعنی 6000 لیرہ تک جا پہنچے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے محصورین یرموک کو بھوک اور دیگر مسائل سے نجات دلانے کے لیے مہمات بھی شروع کر رکھی ہیں۔ لیکن سرکاری فوج کے محاصرے کے نتیجے میں امدادی سامان اور خوراک کیمپ کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے آن لائن مہمات میں گیارہ جنوری کو عالمی یوم صحافت کو محصورین یرموک کے لیے خاص کرنے کی اپیل کی ہے۔