.

شامی باغیوں نے القاعدہ کے 34 غیرملکی جنگجوؤں کو ہلاک کردیا

ادلب اور حلب میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی علاقوں میں مقامی باغی جنگجوؤں نے گذشتہ تین روز کے دوران القاعدہ سے وابستہ گروپوں سے تعلق رکھنے والے چونتیس غیرملکیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ ریاست اسلامی عراق وشام (آئی ایس آئی ایل) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو جبل الزاویہ کے علاقے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ان کی یہ ہلاکتیں باغیوں کے زیرقبضہ شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں باغیوں کے اتحاد کی القاعدہ تنظیم کے خلاف جاری ایک بڑی مہم کے دوران ہوئی ہیں۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹررامی عبدالرحمان نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں زیادہ تر کا تعلق آئی ایس آئی ایل سے تھا۔البتہ ان میں سے بعض اس تنظیم کے اتحادی ایک اور گروپ جند الاقصیٰ سے تعلق رکھتے تھے۔شامی جنگجوؤں نے انھیں الگ الگ پکڑ کر ہلاک کردیا ہے۔

تاہم ان کے اس بیان اور القاعدہ سے وابستہ دونوں تنظیموں کے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے صحافیوں پر جنگ زدہ علاقوں میں جانے پر پابندی عاید کررکھی ہے اور کوئی اور مصدقہ ذریعہ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں عالمی ذرائع ابلاغ کو رامی عبدالرحمان کی برطانیہ میں قائم کردہ شامی آبزرویٹری کی فراہم کردہ اطلاعات پر ہی تکیہ کرنا پڑرہا ہے۔

حزب اختلاف کے ایک اور مانیٹرنگ گروپ شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی تھی کہ مشرقی شہر الرقہ اور ملک کے دوسرے علاقوں میں گذشتہ جمعہ سے متحارب باغی جنگجو گروپوں میں جاری لڑائی کے نتیجے میں آئی ایس آئی ایل کے اکہتر،اس کے متحارب باغی گروپوں کے بیس جنگجو اور چھبیس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجو گروپوں کے درمیان شمالی صوبوں ادلب اور حلب میں ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں کو ہتھیانے کے لیے گذشتہ چارروز سے خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔ان کے درمیان مشرقی شہر الرقہ سے آئی ایس آئی ایل کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے بھی لڑائی ہورہی ہے۔

باغی جنگجو گروپوں پر مشتمل اسلامی محاذ نے حلب اور ادلب کے بعض علاقوں سے القاعدہ کے جہادیوں کو جھڑپوں کے بعد نکال باہر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔شامی گروپ ریاست اسلامی عراق وشام پر صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی جنگ کو ہائی جیک کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ان کے درمیان آئی ایس آئی ایل کے زیرانتظام چیک پوائنٹس اور اڈوں پر باغی جنگجوؤں کے حملوں کے بعد حالیہ شدید لڑائی شروع ہوئی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے پر انسانی حقوق پامال کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

آئی ایس آئی ایل نے ہفتے کے روز ایک آڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں دوسرے باغیوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ جہادیوں پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ بند کردیں یا پھر وہ حلب کے اگلے محاذوں سے پیچھے ہٹ جائیں اور بشارالاسد کی وفادار فورسز کو اندر آنے دیں۔