.

قاہرہ میں متعین ایران کےناظم الامور کی وزارت خارجہ طلبی

ایران کا تشدد کے واقعات پر اظہارتشویش مصر کے داخلی امور میں مداخلت ہے:ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی وزارت خارجہ نے قاہرہ میں متعین ایران کے ناظم الامور کو طلب کرکے ان سے ملک میں ایرانی مداخلت پر احتجاج کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان مرضیہ افخام نے گذشتہ ہفتے کے روز کہا تھا کہ ان کے ملک کو مصری فوج اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے درمیان تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہے۔جمعہ کو ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن ان میں سے زیادہ تر افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے تشدد کے انہی واقعات پر تبصرہ کیا تھا لیکن مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدرعبداللتی نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ایرانی بیان مصر کے داخلی امور میں ناقابل قبول مداخلت ہے''۔

واضح رہے کہ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت نے ایران کے ساتھ تعلقات بحال کیے تھے جس پر مصر کے روایتی عرب اتحادیوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے مصری وزارت خارجہ نے قاہرہ میں متعین قطری سفیر کو بھی طلب کیا تھا اور ان سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپ قرار دیے جانے پر قطر کی جانب سے اظہار تشویش پر احتجاج کیا تھا۔

قطر نے کہا تھا کہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردینا دراصل مظاہرین کے خلاف ''گولی سے قتل کرو''پالیسی کا دیباچہ ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات ہی مصری بحران کا واحد حل ہیں۔

مصر اور قطر کے درمیان جولائی 2013ء میں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔قطر ڈاکٹر مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کا بڑا حامی رہا ہے اوران کی حکومت کے خاتمے اور مصری سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد اخوان کے بہت سے ارکان نے قطر میں پناہ لے رکھی ہے۔