.

نوری المالکی کی سنی مخالف پالیسیاں عراق کیلیے تباہ کن ہیں: علاوی

''العربیہ'' سے انٹرویو میں سنی قبائل کے مطالبات پر توجہ دینے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے وزیر اعظم نوری المالکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ عراق کی سنی اکثریت کے خلاف اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ واضح رہے وزیر اعظم نوری المالکی ان دنوں صوبہ انبار میں سنی قبائل اور عسکریت پسندوں سے لڑائی میں مصروف ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے ان خیالت کا اظہار ''العربیہ'' سے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

صوبہ انبار میں یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی فورسز نے سنی العقیدہ ارکان پارلیمنٹ کی 28 دسمبر کو گرفتاریاں کیں اور ان پر دہشت گردی کے الزامات عاید کیے۔ دو دن بعد کئی ماہ سے جاری سنیوں کے احتجاجی کیمپ کو سکیورٹی فورسز نے اکھاڑ پھینکا گیا۔

ایاد علاوی نے وزیر اعظم نورالمالکی پر زور دیا ہے کہ سنی قبائل کے مطالبات پورے کیے جائیں اور فلوجہ اور رمادی میں فوجی آپریشن بند کیا جائے۔ ایاد علاوی کا کہنا تھا نوری المالکی کی فورسز کو سنی قبائل کو نہیں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانا چاہیے۔

سابق عبوری وزیر اعظم نے کہا القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے سوا تمام عراقی عوام عراق میں سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔ انہوں نے عراقی کابینہ کے آزاد ارکان پر زور دیا کہ اگر نوری المالکی سنی قبائل کیخلاف فوجی مہم جاری رکھتے ہیں تو آزاد ارکان کو کابینہ سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

درایں اثناء فوجی ترجمان جنرل محمد العسکری کا کہنا ہے کہ افواج فلوجہ میں سنی قبائل کو نشانہ نہیں بنا رہی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ''فلوجہ القعدہ کے کنٹرول میں ہے اور اس نے وہاں اپنی حکمرانی شروع کر دی ہے۔ قبائل کی نام نہاد فوج کا وجود نہیں ہے۔ وہاں کوئی پولیس ہے نہ قانون ہے سوائے القاعدہ کے۔''
نوری المالکی نے قبائل اور مقامی آبادی کو القاعدہ کو نکال باہر کرنے کیلیے کہا ہے تاکہ ایک بھر پور لڑائی کو روکا جا سکے۔ نوری المالکی کے اس پیغام کے ساتھ ہی درجنوں خاندان بغداد کے مغرب میں 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فلوجہ شہر سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ عراقی افواج نے شہر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔