.

عراقی فوج الانبار کے صوبائی دارالحکومت پر قبضے میں ناکام

رمادی میں جھڑپوں میں چار شہری اور فوج کے میزائل حملے میں 25 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج مغربی صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی میں ایک شب خون کارروائی میں جہادیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول میں ناکام رہی ہے اور اس حملے میں چار شہری مارے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ریاست اسلامی عراق وشام (آئی ایس آئی ایل) سے وابستہ جنگجوؤں نے دارالحکومت بغداد سے مغرب میں واقع اس شہر کے جنوبی حصوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

رمادی میں عراقی پولیس کے ایک کپتان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''سکیورٹی فورسز اور مسلح قبائلیوں نے رات شہر کے جنوب میں آئی ایس آئی ایل کے زیرقبضہ علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔فریقین کے درمیان رات گیارہ بجے سے منگل کی صبح چھے بجے تک لڑائی جاری رہی تھی اور سکیورٹی فورسز آئی ایس آئی ایل کے زیر قبضہ علاقوں میں داخل ہونے میں ناکام رہی ہیں۔

رمادی اسپتال کے ایک ڈاکٹر احمد عبدالسلام نے جھڑپوں میں چار شہریوں کی ہلاکت اور چودہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے فوج یا جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے۔

عراقی فوج کے اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد العسکری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشے کے پیش نظر اب فلوجہ پر حملے کا امکان نہیں ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ عراقی فورسز نے رمادی میں مزاحمت کاروں پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پچیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ادھر باغیوں کے زیرقبضہ دوسرے شہر فلوجہ کے باہر دھماکوں کی تین آوازیں سنی گئی ہیں۔

عراقی فوج نے فلوجہ کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ وہاں بھر پور کارروائی سے قبل شہریوں کو نکلنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔فوج نے ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ نئی کمک بھی فلوجہ بھیجی ہے اور اس نے شہر سے پندرہ کلومیٹر مشرق میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔

وزیراعظم نوری المالکی نے فوج کو فلوجہ اور رمادی پر کنٹرول کے لیے حملے کی تیاری کا حکم دیا ہے لیکن انھوں نے فلوجہ کے مکینوں اور قبائل سے کہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے بھرپور حملے سے بچنے کے لیے ''دہشت گردوں'' کو نکال باہر کریں۔انھوں نے سکیورٹی فورسز کو فلوجہ کے رہائشی علاقوں کو نشانہ نہ بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔