.

حلب سے القاعدہ جہادیوں کا فرار، ہیڈکوارٹرز پر شامی باغیوں کا قبضہ

دولت اسلامی عراق وشام کے جنگجوؤں کی شمالی صوبوں ادلب اور حلب سے پسپائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں مختلف باغی گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے القاعدہ سے وابستہ جہادی گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے اور انھیں وہاں سے مار بھگایا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق بدھ کو مختلف اسلامی باغی بریگیڈز سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے حلب کے علاقے قادی عسکر میں واقع بچوں کے اسپتال کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔یہاں دولت اسلامی عراق وشام نے اپنا ہیڈکوارٹرز قائم کررکھا تھا۔

شامی باغیوں نے حلب میں داعش کے کنٹرول والے دوسرے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور لڑائی میں دس سے بیس کے درمیان جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ حلب شہر سے داعش کے جنگجو مکمل طور پرپسپا ہوگئے ہیں اور ان میں سے شاید ہی کوئی جنگجو اس شہر میں رہ گیا ہے۔

صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجو گروپوں اور القاعدہ کے درمیان شمالی صوبوں ادلب اور حلب میں ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں کو ہتھیانے کے لیے گذشتہ ایک ہفتے سے خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔ان کے درمیان مشرقی شہر الرقہ سے داعش (آئی ایس آئی ایل) کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے بھی لڑائی ہورہی ہے۔اس لڑائی میں داعش کو پسپائی اور شکست کا سامنا ہے۔

القاعدہ سے وابستہ گروپ کے ترجمان نے منگل کو اپنے اپنے جنگجوؤں سے کہا تھا کہ وہ دوسرے باغی گروپوں کو ''تہس نہس'' کردیں۔داعش کے ترجمان ابومحمد العدنانی نے ایک ویڈیو بیان میں آئی ایس آئی ایل کے جنگجوؤں سے کہا کہ ''وہ انھیں (باغیوں کو) مکمل طور پر ختم کردیں اور سازش کو اس کی پیدائش پر ہی قتل کردیں''۔

داعش نے یہ دھمکی القاعدہ سے وابستہ ایک اور گروپ النصرۃ محاذ کے سربراہ کے بیان کے بعد دی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ محاذ بھی شام کے دوسرے باغی گروپوں کی داعش کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے جارہا ہے۔

النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کے گروپ اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان منگل کو بڑے پیمانے کی لڑائی چھڑ گئی ہے۔انھوں نے داعش کی غلطیوں کو اس لڑائی کا سبب قراردیا اور کہا کہ اس نے الرقہ میں النصرۃ کے کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔

جولانی نے اپنے پیغام میں تمام باغی گروپوں سے کہا کہ وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح جدوجہد میں متحد ہوجائیں۔انھوں نے کہا کہ تمام باغی گروپوں کے درمیان باہمی لڑائی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور قیدیوں کا تبادلہ کیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ باغیوں کو صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف لڑائی پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑائی بند کردیں۔