.

سات ماہ سے بچھڑے مالک سے اونٹنی کا منفرد 'معانقہ'

اونٹنی نے دور سے اپنے سابقہ مالک کی آواز پہچان لی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پالتو جانوروں کی انسانوں بالخصوص اپنے مالکوں کے ساتھ انس ومحبت ضرب المثل کی حد تک مشہور ہے لیکن اس کی عملی مثالیں خال خال ہی ملتی ہیں۔ کتوں، بلیوں، گائے، بھینسیں اور اونٹ انسانوں سے بہت جلد مانوس ہونے والے جانور ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پالتوں جانوروں کا اپنے مالک سے محبت کا عدیم النظیر مظاہرہ حال ہی میں سعودی عرب میں دیکھا گیا۔ یہ واقعہ ایک اونٹنی کا ہے جسے اس کے پہلے مالک نے محمد بن شویشان السبیعی نے ایک دوسرے شخص کو فروخت کردیا تھا۔ الشویشان نے بتایا کہ سات ماہ بعد اس نے اونٹوں کی ایک ریس میں شرکت کی۔ اس ریس میں الشیخ عبدالمحسن الراجحی نے مجھ سے خریدی گئی اونٹنی بھی شامل کر رکھی تھی۔

دوستوں نے بتایا کہ اونٹنی نے میری آواز سن کر مجھے پہچان لیا اور گاڑیوں کے بیچ میں سے نکلتے ہوئے میرے پاس آ پہچنی۔ اونٹنی نے اپنی لمبی گردن اٹھائی اور مجھے اس میں لپیٹ لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ گویا وہ بہت عرصے بعد اپنے پہلے مالک سے ملنی کی خوشی میں آبدیدہ تھی۔

شویشان السبیعی نے بتایا کہ میں نے اونٹنی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے تسلی دی۔ میں نے یہ سارا واقعہ اونٹوں کے مالک الشیخ عبدالمحسن الراحجی کو بتایا تو انہوں نے مذاق میں کہا کہ "لو اگر ایسا ہے تو یہ سارے اونٹ تمہارے ہوئے"۔ الشویشان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ جانوروں کو صرف اپنی اغراض کے لیے پالتے ہیں۔ ان کے جذبات کا قطعی خیال نہیں رکھتے ہیں حالانکہ جانور بھی محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔

پالتو جانوروں کی اپنے مالکان سے محبت اور انسیت بے لوث ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اونٹنی نے مجھے اپنی آغوش میں لیا تو مجھے وہ دن یاد آ گئے جب وہ میرے پاس ہوتی تھی اور میں اس کی خدمت کیا کرتا تھا۔ یہ اونٹنی اس وقت بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔ جانوروں میں کتے اور اونٹ ایسے مویشی ہیں جو انسان سے بہت جلد مانوس ہوتے اور مالکان سے محبت کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ شویشان السبیعی کی اپنی فروخت کردہ اونٹی کے ساتھ منفرد ملاقات کی تصویر ایک دوسرے شہری المنشد النداوی نے اپنے موبائل کیمرے سے لی جسے انٹرنیٹ پر لوڈ کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر یہ تصویر بے حد مقبول ہوئی ہے۔