.

شامی اپوزیشن کا دوسرے جنیوا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ موخر

پندرہ جنوری تک شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے اپوزیشن اتحاد نے دوسری جنیوا امن کانفرنس میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ التوا میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بارے میں اپوزیشن اتحاد نے اس بارے میں ووٹنگ 15 جنوری تک ملتوی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے اگلے چھ ماہ تک اپنی قیادت کیلیے احمد جربا کو اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر منتخب کرنے والے اپوزیشن اتحاد نے منگل کے روز جنیوا ٹو مں اپنی شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ کرنا تھا ، جنیوا ٹو کیلیے 22 جنوری کی تاریخ طے کی گئی ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے متوقع شرکاء کے نام دعوت نامے بھی جاری کر دیے ہیں۔

تاہم شامی اپوزیشن اتحاد نے اس بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے بارے میں کم از کم آئندہ ہفتے کے وسط تک ووٹنگ ملتوی کر دی ہے۔ شامہ اپوزیشن اتحاد میں شامل ایک اہم گروپ شامی قومی کونسل نے پہلے ہی جنیوا ٹو میں شریک نہ ہونے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے۔

شام کے اپوزیشن اتحاد کی سیاسی کمیٹی کے رکن ہادی الباہرا کا اس التوا کے بارے میں کہنا ہے کہ ''امکان ہے کہ اس بارے میں فیصلہ 15 جنوری تک کر لیا جائے۔'' ہادی الباہرا کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے بہت سارے ارکان کو شکایت ہے کہ بشار الاسد نے پہلی جنیوا امن کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں کی پروا نہیں کی ہے۔''

دوسری جانب شامی حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ بشارالاسد اقتدار نہیں چھوڑیں گے اور رواں سال ہونے والے صدارتی انتخاب میں پھر سے صدارتی امیدوار ہوں گے۔ بشارالاسد کے اہم اتحادی ایران کے جنیوا ٹو میں شریک ہونے کے امکان نے بھی شامی اپوزیشن اتحاد کو اس حوالے سے باہمی اختلاف میں الجھا دیا ہے۔

تاہم ایران کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے جنہیں سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پہلی فہرست کے مطابق شرکت کی دعوت دی ہے ایران ان میں شامل نہیں ہے۔ ایران کی شرکت یا عدم شرکت کے بارے میں امریکی اور روسی وزیر خارجہ 13 جنوری کو ہونے والی ایک ملاقات میں کریں گے۔

شامی قومی کونسل کے رکن عبدالرحمان الحاج کا کہنا ہے کہ ''جنیوا ٹو میں جانے کے معاملے پر شدید اختلاف ہے۔ اس اختلاف سے اپوزیشن اتحاد ٹوٹ سکتا ہے، جنیوا امن کانفرنس میں جانے کیلیے ہمیں ایک قابل بھروسہ اور متحد اپوزیشن کی ضرورت ہے۔''